ڈنمارک نے اپنے شہریوں کو یوکرین میں روسی افواج کے خلاف لڑنے کی اجازت دے دی

جو روس کےخلاف جنگ میں براہ راست حصہ لینا چاہتےہیں ریاست کی جانب سے ان کو مکمل آزادی ہے۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم اپنے شہریوں کو یوکرین میں روسی افواج کے خلاف لڑنے کے لیے بننے والی بین الاقوامی بریگیڈ میں شامل ہونے کی اجازت دے دی۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے گذشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے  انھوں نے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈنمارک میں رہنے والے یوکرینی اور غیر یوکرینی افراد جو روس کےخلاف جنگ میں براہ راست حصہ لینا چاہتےہیں ریاست کی جانب سے ان کو مکمل آزادی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یوکرین پر روس کے حملے سے عالمی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

یوکرین کے امیر ترین پاکستانی بزنس مین محمد ظہور جنگ سے پریشان

انہوں نے کہا کہ یہ آزادی کا معاملہ ہے کوئی بھی اپنی پسند سےفیصلہ کرسکتا ہے اور ڈنمارک میں رہنےوالےوالا کوئی بھی شخص  یوکرین کے حق میں روسی افواج کے خلاف لڑنے  کیلئے بننے والی بین الاقوامی بریگیڈ میں شامل ہوسکتا ہے  ڈنمارک کی جانب سے اس کو مکمل آزادی ہے ۔

اس سے قبل  ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے کوپن ہیگن میں یوکرین پر روس کی جانب سے حملے کی مذمت کرتے ہوئے  روسی سفارت خانے کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ، مجمع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ  پورے یورپ کو روس سے خطرہ ہے ۔

متعلقہ تحاریر