بینکنگ سیکٹر میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کی پالیسی بنالی، گورنر اسٹیٹ بینک

ڈاکٹر رضا باقر کا کہنا ہے اسٹیٹ بینک صنفی امتیاز کے خاتمہ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، ہم نے 30 فیصد سے زیادہ اہداف حاصل کرلیے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ ہم نے بینکنگ سیکٹر میں خواتین کی شمولیت کو بڑھانے کی پالیسی بنا لی ہے۔ بینکوں کے لیے 20 فیصد خواتین کو ملازمت فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار گورنر اسٹیٹ بینک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  ڈاکٹر رضا باقر کا کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے بینکنگ میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کی پالیسی بنائی ہے، اس ہدف کو حاصل کرکے خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے میں اسٹیٹ بینک اپنا کردار ادا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے

تیل کی کھپت کم کرنے کیلیے بازار جلدی بند کریں، گھر سے کام کریں

امریکہ، اسپین، جرمنی اور اٹلی کیلیے پاکستانی برآمدات میں اضافہ

انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک میں تین میں سے ایک ڈپٹی گورنر خاتون ہیں۔ اسٹیٹ بینک صنفی امتیاز کے خاتمہ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، ہم نے 30 فیصد سے زیادہ اہداف حاصل کرلیے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا بینکوں کو 2023تک 2کروڑ خواتین کے اکاؤنٹ کھولنے کا ہدف دیا ہے ، 2024تک 10فیصد برانچ لیس بینکاری ایجنٹس خواتین ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 75فیصد بینکوں کے ایکسس پوائنٹس تک 2024تک تربیت یافتہ عملہ تعینات ہوگا، صنفی ڈیٹا نہ ہوا تو بینکوں کی کارکردگی کا تجزیہ نہیں ہوسکتا۔

ڈاکٹر رضا باقر کا کہنا تھا کہ آسان ڈیجیٹل اکاؤنٹ سفر کا آغاز ہے اسے آگے لے کر چلنا ہے، 82 ملین بینک اکاؤنٹس میں سے تین کے مقابلے میں ایک اکاؤنٹ خاتون کا ہے، 189 ملین موبائل فون صارفین میں سے 100 ملین سے بھی کم کے بینک اکاؤنٹ ہیں۔

متعلقہ تحاریر