اسٹیٹ بینک کی چھٹی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 9.75 فیصد برقرار

ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث جاری کھاتوں میں اضافہ ہوا۔ رواں مالی سال میں مہنگائی کی شرح 9سے 11فیصد رہنے کا امکان ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2022 کی چھٹی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے شرح سود 9 اعشاریہ 75 پر مستحکم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

منگل کے روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر میں شرح سود میں ایک فی صد اضافہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

معاون امریکی تجارتی نمائندہ کی پاکستان کے کاروباری رہنماؤں سے ملاقات

مرکزی بینک نے خواتین کی شمولیت بڑھانے کے لیے آسان ڈیجیٹل اکاؤنٹ متعارف کرادیا

مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ترجمان اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ حکومتی ریلیف کے باعث مہنگائی میں کمی آئی ہے۔ ترقی کی شرح پائیدار رفتار اختیار کررہی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق فروری میں مہنگائی کی شرح 12 اعشاریہ 2 فیصد رہی۔ تاہم حکومتی پالیسی کی وجہ سے فروری میں مہنگائی کی شرح میں واضح کمی دیکھی گئی۔

مرکزی بینک کے مطابق فروری میں تجارتی خسارے میں 10 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ جنوری میں تجارتی خسارے میں 29 فیصد کمی ہوئی تھی۔

ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث جاری کھاتوں میں اضافہ ہوا۔ رواں مالی سال میں مہنگائی کی شرح 9سے 11فیصد رہنے کا امکان ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اگلے مالی سال مہنگائی کی شرح 5سے 7فی صد رہنے کا امکان ہے۔ اگلے مالی سال میں عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں کمی ہوسکتی ہے۔

متعلقہ تحاریر