رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں نجی شعبے نے 911 ارب قرض لیا، شوکت ترین
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے رواں سیزن میں چینی کی پیداوار بڑھنے کا امکان ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے نو مہینوں کے دوران نجی قرضہ جات نو سو گیارہ ارب روپے رہے جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے 357 ارب روپے تھے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے لکھا ہے کہ "خاطر خواہ اضافہ مضبوط معاشی سرگرمیوں کی نشاندہی کر رہا ہے۔ دریں اثنا، گورنمنٹ آف پاکستان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے نجی شعبے کے لیے 291 ارب روپے کی مزید گنجائش نکالی ہے۔”
Private credit off take reported at Rs. 911 billion from July to March 11, 2022, vs Rs. 357 billion for same period last year. The substantial increase is indicating robust economic activity. Meanwhile, GoP has retired Rs. 291 billion to SBP, creating room for private sector.
— Shaukat Tarin (@shaukat_tarin) March 26, 2022
یہ بھی پڑھیے
ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم، شوگر سیکٹر سے 33 فیصد اضافی وصولی
حکومت نے 352 ارب روپے کے چار ترقیاتی منصوبوں کی سفارش کردی
چینی کی پیداوار کے حوالے سے مزید ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے لکھا ہے کہ "چینی کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 ملین ٹن بڑھ کر 7.5 ملین ٹن تک بڑھنے کا امکان ہے۔”
The sugar production likely to increase by 2 million tones from last year to 7.5 million tones. As a result, Pakistan is back to sugar surplus country from deficit. Ex-mill sugar prices are now around Rs 81/kg substantially lower from last year.
— Shaukat Tarin (@shaukat_tarin) March 25, 2022
انہوں نے لکھا ہے کہ "اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پاکستان میں چینی سرپلس میں چلے جائے گی۔”
وزیر خزانہ شوکت ترین نے لکھا ہے کہ "ایکس مل چینی کی قیمت اب تقریباً 81 روپے فی کلو گرام تک پہنچ گئی ہے جو پچھلے سال سے کافی کم ہے۔”









