عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانا سب سے بڑی غیرملکی سازش تھی، چوہدری سرور
سابق گورنر پنجاب کا کہنا ہے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو غیر ملکی سازش قرار دینے والے عمران خان ساڑھے تین عثمان بزدار سے بلیک میل ہوتے رہے۔

سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اپنی پارٹی کے غیر آئینی اقدامات پر پھٹ پڑے ۔ چوہدری محمد سرور کا کہنا ہے اگر وزیراعظم عمران خان کو ان کو عہدے سے ہٹانا غیرملکی سازش ہے تو پھر سب سے بڑی غیر ملکی سازش عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانا تھا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ شکرہےمیں غیرآئینی کام کرنےسےبچ گیا، آج ہمارا ملک بہت مشکل حالات سے گزررہا ہے، کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا جس سے مزید حالات کشیدہ ہوں، پہلے بھی گورنر کے عہدے سے استعفا دیا تھا، اس لیے میں کہتا ہوں کہ مجھے عہدوں سے کوئی پیار نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی وفاقی دارالحکومت میں مقبول ترین جماعت، گیلپ سروے
وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کو احتجاج کی کال دے دی
چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا کہ عثمان بزدار نیاپاکستان بناسکتا ہے، سب سے بڑی عالمی سازش عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنانا تھا، ہم نے سوچا کہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونا ہے، دل پر پتھر رکھ کر عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے، پورا پاکستان روتا رہا کہ عثمان بزدار کو تبدیل کردیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ غیرآئینی کام کیسےکرسکتاہوں؟ ہمیشہ آئین کی پاسداری کو ترجیح دی، ملک میں عدل وانصاف کا عزم کیا تھا۔
سابق گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ میں، شاہ محمود قریشی اور علیم خان وزارت اعلیٰ کے امیدوار تھے، ایک ایسے شخص کو نامزد کیا گیا جو پی ٹی آئی کا نہیں تھا، پیسے لیکر ڈی سی اور اے سی لگائے جاتے ہیں، ایک شخص ساڑھے 3 سال سے تحریک انصاف کو بلیک میل کررہا ہے، ایک طرف آپ کہتے ہیں بلیک میل نہیں ہوں گا، اس شخص سے بلیک میل ہورہے ہیں جس کے پاس 9 ممبران ہیں۔
چودھری محمد سرور کا کہنا تھا کہ ہم پارٹی کے ساتھ وفادار رہنا چاہتے تھے، پی ٹی آئی کے کارکن مجھ سے اور میں ان سے پیار کرتا ہوں۔
پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا ہر صورت پنجاب اسمبلی کا اجلاس 3 اپریل کے بعد ہونا چاہیے، مجھے کہا آج ہی استعفا منظور کرکے آج ہی اجلاس بلایا جائے، پرویز خٹک ایک کاغذ کا ٹکڑا لے آئے کہ دستخط کردیں، اس کاغذ پر لکھا تھا کہ اسمبلی کا اجلاس 2 اپریل کو بلایا جائے، میں نے کہا مجھ سے استعفا لینا ہے تو لے لیں، پرویز خٹک نے الزامات لگانا شروع کردیئے، میں نے اپنی آواز اونچی کی، کبھی زندگی میں ایسا کام نہیں کیا۔
سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا مزید کہنا تھا ہمارے پاس 184 ممبرز تھے، ان میں سے کوئی وزیراعلیٰ کیوں نہیں بن سکتا، میں نے رات کے اندھیرے میں غیر قانونی اور غیر آئینی کام کیا، مجھے رات کے اندھیرے میں ہی عہدے سے ہٹادیا گیا، گزشتہ 2 سالوں میں 10 بار مستعفی ہونے کی کوشش کی، گالم گلوچ کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں تھے تو بہت زیادہ طاقتور تھے، رات کو فون آیا کہ پرویز الٰہی ہار رہے ہیں اسمبلی اجلاس ملتوی کردیں۔
چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا مجھے علم ہے کتنی مشکلات کے بعد جی ایس پی پلس لایا تھا، ہم روس، چین ، امریکا ، برطانیہ سب سے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں، میرا جینا اور مرنا پاکستان کے ساتھ ہے، میری سیاست پاکستان میں ہوگی، کارکنوں سے پیار کرتا ہوں۔









