اوپن مارکیٹ میں انتظامیہ کے کریک ڈاوٴن کی وجہ سے ڈالر کے ریٹ میں کمی ہو گئی

فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ ہم نے انتظامیہ سے خود درخواست کی ہے کہ ایکسچینج کمپنیز کے باہر سادہ لباس میں اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔قانون نافز کرنے کرنے والے اہلکار ایکسیچنیج کمپنیز میں ڈالر کی خریدوفروخت والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ہمارے ممبرز نے شکایات کی تھی کہ بلیک مافیا ایجنٹ ایکسچینج کمپنیز مین آنے والے لوگوں کو پریشان کرتے ہیں۔ملک بوستان نے بتا یا کہ بلیک مافیا ایکسیچنیج کمپنیز میں ڈالر خرید و فروخت کرنے آنے والوں کو باہر سے پکڑ لیتے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب کی جانب اہلکاروں کی تعیناتی کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ میں نمایاں کمی آء ی ہے۔اگر کریک ڈاوٴن ایسے ہی جاری رہا تو اوپن مارکیٹ میں ریٹ تیزی سے نیچے آ ے گا. مارکیٹ میں ڈالر وافر مقدار میں موجود ہے۔ بیچنے والے زیادہ اور خریدنے والے کم ہیں۔ملک بوستان کے مطابق مارکیٹ میں روزانہ بلیک مافیا والے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ڈالر خرید رہے تھے جس کی وجہ سے پریشر بن رہا تھا ۔ کریک ڈاوٴن کی وجہ سے بلیک مافیا کے ایجنٹ انڈر گراوٴنڈ ہوگیے ہیں۔دوسری جانب ایکسچنج کمپینیز کے سیکرٹری جنرل ظفر پراچہ نے سادہ لباس اہلکاروں کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کر دیا ْہم نے اس حوالے اسٹیٹ بینک کو تحریری شکایت درج کردی ہے۔کسی قانون کے تحت اہلکار ایکسیچنیج کمپنیز کے اندر نہیں بیٹھ سکتے۔ظفر پراچہ نے بتایا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 6 روپے کم ہوا ہے۔









