عدلیہ مخالف اشتہار، اسلام آباد ہائی کورٹ کا میر شکیل الرحمان سے تحریری جواب طلب
سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک اشتہار مسلسل دو دن چھاپا اور کہہ رہے ہیں غیر ارادی غلطی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں انگریزی روزنامہ "دی نیوز” میں مسلسل دو روز عدلیہ مخالف اشتہار چھاپنے پر توہین عدالت کیس پر سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔ عدالتی حکم پر جیو اور جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمٰن اور دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
لانگ مارچ کے دوران میٹرو اسٹیشن کو نذرآتش کرنے کی خبریں جھوٹ کا پلندہ ثابت
اسلام آباد ہائیکورٹ، شیریں مزاری کو رات ساڑھے 11 بجے تک پیش کرنیکا حکم
اس موقع پر میرشکیل کے وکیل کا کہنا تھاکہ انہیں عدالتی نوٹس سے معذرت کا موقع ملا۔
عدالت عظمی نے کہا کہ چیف جسٹس اور چیف جسٹس آف پاکستان موجود ہیں۔ جب فورم موجودہ ہے تو اخبار کو استعمال کرنا غیرقانونی ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے حکم دیا کہ اس بارے میں تحریری جواب دیا جائے، اس اشاعت کا ذمہ دار کون ہے اس بات کا تعین عدالت نے کرنا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ میر شکیل الرحمن آئندہ سماعت سے پہلے تحریری جواب کرائیں۔
جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ عدالت کا کام صرف سزا دینا نہیں ہے، شعور دینا بھی ہے۔شفاف ٹرائل سب کا حق ہے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹسسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور مقدمہ کیسماعت 13 جون تک ملتوی کر دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 25 مئی کی سماعت میں عدلیہ مخالف اشتہار چھاپنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو اشتہارات چھاپے وہ صحافتی رپورٹنگ نہیں ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اشتہار میں معزز چیف جسٹس آف پاکستان کی تصاویر لگائیں، اس معاملے کو کسی صورت نظر انداز نہیں کریں گے،یہ سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے۔
جس پر ایڈیٹر عامر غوری کا موقف تھا کہ اشتہار چھاپنا غیر ارادی غلطی تھی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک اشتہار مسلسل دو دن چھاپا اور کہہ رہے ہیں غیر ارادی غلطی ہے۔









