ترک سعودی تعلقات کی برف پگھلنے لگی، ایم بی ایس انقرہ پہنچ گئے

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان  نے تقریباً 4 سال بعد ترکی کا دورہ کیا

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے تقریباً 4 سال بعد ترکی کا دورہ کیا۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے انقرہ کے صدارتی محل میں  سعودی شہزادے  محمد بن سلمان  کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے گلے بھی ملے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان  دورہ ترکی کا مقصد سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ٹوٹے ہوئے تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانا ہے۔  ایم بی ایس کا دورہ ترکی  خلیجی ممالک سے باہر اپنی  بہتر  شبیہہ بحال کرنے کی کوشش کی نشاندہی کرتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ کی جولین اسانج کو امریکا کے حوالے کرنے کی منظوری

سعودی ولی عہد کا دورہ ترکی ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب اردگان مالی مدد کے خواہاں ہیں جو ترکی کی مشکلات سے دوچار معیشت کو راحت پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے۔

ترک حکام کے مطابق  دونوں ممالک کے درمیان تجارت، پروازوں اور ٹی وی سیریز کی نمائش پر پابندیاں ہٹا دی ہیں جبکہ  باہمی منفی میڈیا کوریج بھی روک دی گئی ہے۔

MBS, ایم بی ایس

 

اس دورے کے دوران توانائی، معیشت اور سلامتی سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گےجبکہ سعودی فنڈز کو ترکی میں کیپٹل مارکیٹوں میں داخل کرنے کے لیے ایک منصوبہ بھی زیر غور  آئے گا ۔

تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ سعودی شہزادے کا ترکی کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ترکی کی معاشی  طور پر بدحال ہے اور وہاں  افراط زر کی شرح 70 فیصد سے زائد ہو چکی ہے ۔

تجزیہ کاروں  کے مطابق سعودی فنڈز اور غیر ملکی کرنسی اردگان کو جون 2023 تک ہونے والے انتخابات سے قبل حمایت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

خیال رہے کہ 2018 میں استنبول میں  واقع سعودی قونصل خانے میں عرب جاسوس اسکواڈ  نے سعودی صحافی  جمال خاشقجی کو قتل کردیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے تھے ۔

ترک صدر طیب اردگان نے جمال خاشقجی کے قتل  کے الزام سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو عائد کیا تھا ۔

متقول صحافی  جمال خاشقجی کی منگیتر نے ایم بی ایس کے دورہ ترکی پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ  سعودی ولی عہد کو دوسرے ممالک کے دوروں کے دوران جو سیاسی  طور پر پروکوٹول ملتا ہے اس سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ وہ ایک قاتل ہیں۔

 

 انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں محمد بن سلمان سے متعلق کہا کہ ان ہمارے ملک کادورہ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا کہ وہ ایک قاتل ہیں اور ہمیں انصاف کے حصول کے لیے جنگ لڑنی ہے ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل رواں سال اپریل میں ترک صدر رجب طیب اردگان نے سعوعی عرب کا دورہ کیا تھا۔ اردگان کے دوری سعودیہ عرب کو غیر معمولی قراردیا گیا تھا ۔

Facebook Comments Box