بنی گالا میں جاسوسی کا معاملہ، پولیس کا مبینہ ملزم کا میڈیکل کا فیصلہ

 عمران خان کو باقاعدہ درخواست کے باوجود پولیس کو ملازمین کی لسٹ فراہم نہیں کی گئی

سابق وزیراعظم عمران خان  کی رہائش گاہ  بنی گالا  میں جاسوسی ڈیوائس لگاتے ہوئے  سے پکڑے جانے والے    شخص کو چیئرمین پی ٹی آئی کے  چیف سیکیورٹی اسٹاف شہباز گل نے پولیس کے حوالے کیا ۔

اسلام آباد پولیس نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اے آر وائی کے رپورٹر نے ایک شخص کو پولیس کے حوالے کیا جو ٹھیک طرح سے بات نہیں کرسکتا ہے جبکہ اسی وجہ سے تاحال اس  کی  شناخت بھی نہیں ہو پائی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کو سپورٹ کرنے پر لیلیٰ زبیری ٹرولنگ کا نشانہ بن گئیں

اسلام آباد پولیس نے بتایا کہ  مبینہ جاسوس کی جسمانی اور دماغی حالت جاننے کے لئے میڈیکل ٹیسٹ کروایا جائے گا۔پولیس نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق مبینہ جاسوس کو کل سے بنی گالہ ہاؤس میں گرفتار رکھا گیا تھا۔

 

اسلام آباد پولیس نے بتایا کہ اس کیس میں اے آر وائے  کے رپورٹ نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے تاہم پولیس  تفتیش کررہی ہے  ۔جلد اس حوالے سے اصل حقائق سے آگاہ کریں گے ۔

 

ہفتے کی رات چیئرمین پی ٹی آئی عمرا ن  خان  کی رہائش گاہ  بنی گالا کے ملازم کو انکے بیڈروم میں جاسوسی ڈیوائس لگاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑلیا گیا ہے۔

 اطلاعات کے مطابق بنی گالا کے سیکیورٹی سربراہ کو اطلاع ملی کہ ایک ملازم عمران خان کے بیڈ روم میں کچھ ڈیوائس لگا رہا ہےجس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے  صفائی کرنے والے ملازم کو پکڑا  اور دعویٰ کیا کہ  ملازم سے ایک جاسوسی کا  آلہ بر آمد ہوا

عمران خان کے چیف سیکیورٹی اسٹاف شہباز گل  کے مطابق  پکڑا جانے والا جاسوس  6 سال سے عمران خان کا ملازم تھا اور اسی لیے اسے اس کام کے لیے چنا گیا ۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس شخص کو 50 ہزار روپے دیئے گئے تھے ۔

 

 

اسلام آباد پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ  عمران خان کو متعدد بار ملازمین کی لسٹ فراہم کرنے کا کہا گیا مگر تاحال پولیس کو بنی گالا میں تعینات ملازمین کی لسٹ ابھی تک فراہم نہیں کی گئی۔ جب تک ملازمین کی مکمل لسٹ فراہم نہیں کی جاتی ان کا بیک گراونڈ معلوم نہیں کیا جاسکتا۔

متعلقہ تحاریر