نجی بینک کے لاکر سے ایک لاکھ ڈالر کی گمشدگی، عدالت کا ایف آئی اے پر اظہار برہمی

خاتون ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بینک کے اعلیٰ حکام نے نے ملی بھگت سے خاتون اہلکار کو پھنسایا اوراسے ٹیکنیکل بنیادوں پر جیل میں رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے

سندھ ہائیکورٹ میں نجی بینک کے لاکر سے ایک لاکھ ڈالر کی گمشدگی کے کیس کی سماعت ہوئی ۔ عدالت نے بینکر خاتون نوشین کے خلاف چالان پیش نہ کرنے پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) پر برہمی کا اظہار کیا ۔

سندھ ہائیکورٹ  میں نجی بینک کے لاکر سے ایک لاکھ ڈالر کی رقم غائب ہونے کے معاملے کی سماعت ہوئی ۔ عدالت خاتون بینکر نوشین کے خلاف چالان پیش کرنے میں تاخیر پر ایف آئی اے پر برہم ہوگئی ۔

یہ بھی پڑھیے

یونائیٹڈ بینک کاصارف سے فراڈ، صدر نے لوٹی رقم واپس کرنے کی ہدایت کردی

جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ بینک کے دیگر اہلکاروں کو آپ چھوڑ چکے ہیں،سارا زور ایک کے خلاف ہے۔چالان پیش نا ہونے کے سبب ملزمہ ضمانت کے حق سے محروم ہے۔چالان پیش کریں یا درخواست ضمانت کی مخالفت چھوڑ دیں۔

عدالت  نے  ایف آئی اے کو دو ہفتے میں ریکارڈ جمع کرکے چالان متعلقہ عدالت میں پیش کر نے کی  ہدایت دی ۔ خاتون ملزمہ کے وکیل نے  عدالت کو بتایا کہ بینک کے اعلیٰ حکام نے نے ملی بھگت سے خاتون اہلکار کو پھنسایا ہے۔

وکیل  سعد نے سماعت کے دوران کہا کہ ملزمہ کو قانونی بنیادوں پر نہیں، ٹیکنیکل بنیادوں پر جیل میں رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ خاتون کا سات سالہ بچہ اپنی والدہ سے دور ہے۔ یہ انسانی  حقوق کا معاملہ بھی ہے۔

ملزمہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ماتحت عدالت چالان کے انتظار میں درخواست ضمانت کی سماعت نہیں  کررہی۔ایف آئی اے نے نجی بینک( فیصل ) کی زمزمہ برانچ کے لاکر سے ایک لاکھ ڈالر کی گمشدگی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر