ملعون سلمان رشدی قاتلانہ حلمے کے بعد وینٹی لیٹر پر منتقل،آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ

نیویارک میں تقریب کے دوران اسٹیج پر آتے ہی چاقو بردار نوجوان نے ملعون پر حملہ کردیا، سلمان رشدی کی گردن اور پیٹ پر خنجر گونپے گئے، نیویارک پولیس: 24سالہ حمہ آور ہادی متر

شاتم رسول  ملعون سلمان رشدی امریکی ریاست نیویارک  میں ایک تقریب کے دوران اسٹیج پر قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوگیا۔ملعون کو حالت تشویشناک ہونے کے بعد وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا ہے جبکہ اسکی ایک آنکھ بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

  ملعون کے اسٹیج پر آتے ہی چاقو برداری نوجوان نے اس پر حملہ کردیا اور چاقو کے پے درپے وار کیے۔پولیس نے نیوجرسی سے تعلق رکھنے والے 24سالہ حملہ آور  ہادی متر کو گرفتار کرلیا۔

یہ بھی پڑھیے

ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں ایک اور ڈرون حملہ

اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری، 6 بچوں سمیت 32 افراد شہید

برطانوی نشریاتی ادارے  کے مطابق سلمان رشدی کے ایجنٹ اینڈریو وائلی کا کہنا ہے کہ خبر اچھی نہیں ہے،اس پر اسٹیج پر حملہ کیا گیا اور اب وہ وینٹی لیٹر پر ہے اور بولنے کے قابل نہیں ہے اور اسکی ایک آنکھ بھی ضائع ہوسکتی ہے۔

نیو یارک اسٹیٹ پولیس کے مطابق  نیویارک کے چوتاؤکا انسٹی ٹیوشن میں منعقدہ تقریب سی ایچ کیو22 کے دوران ملعون سلمان رشدی جیسے ہی اسٹیج پر آیا تو ایک مشتبہ شخص بھاگتا ہوا  آیااور تقریب کے میزبان اور ملعون رشدی پر چاقو سے حملہ کردیا۔

ایجنٹ اینڈریو وائلی کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ملعون کی ایک آنکھ ضائع ہوسکتی ہے، اس کے بازو کی رگیں کٹی ہوئی ہیں اور اس کے جگر کو چھرا گھونپ کر نقصان پہنچایا گیا۔

سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے نیو جرسی کے رہائشی ہادی متر کو موقع سے گرفتار کرلیا گیاہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم اہل تشیع مسلک کا پیروکارہے۔

امریکی حکام کے مطابق ملعون کی گردن اور پیٹ میں کم از کم ایک ایک مرتبہ چاقو گونپا گیا۔ واقعے کے بعد ملعون کو فوری طور پربذریعہ ہیلی کاپٹر ایری، پنسلوینیا کے اسپتال منتقل کردیاگیا۔

 ملعون سلمان  رشدی 1988 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب شیطانی آیات  لکھنے کے بعد برسوں تک اسلام پسندوں کی جانب سے قتل کی دھمکیوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔وہ سن 2000 سے امریکا میں مقیم ہے۔

پاکستان نے سلمان رشدی کی گستاخانہ کتاب پر پابندی عائد کردی تھی جبکہ ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ خمینی نے 1989 میں سلمان رشدی کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ جاری کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر