شہباز حکومت کی معاشی پالیسیز کے سبب مہنگائی کی شرح 45 فیصد تک پہنچ گئی

پاکستان ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران روز مرہ استعمال کی 23 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔

مہنگائی بے لگام ، عوام کے لیے مہنگائی گزشتہ مالی سال کی نسبت نئے مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں شرح 45 فیصد ہو گئی ، روزمرہ استعمال کی بنیاد اشیا، کھانے پینے کا سامان، تعلیمی اخراجات اور علاج معالجہ سب مہنگا ہوگیا۔

ملک میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا، مہنگائی کے بڑھتے گراف نے ایک اور ریکارڈ قائم کردیا ہے اور ہفتہ وار شرح ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

یہ بھی پرھیے

شہباز حکومت نے مالی سال کے پہلے ماہ میں معیشت کا دھڑن تختہ کردیا

سعودی عرب کی 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی آفر سرخ فیتے کی نذر

یہ مسلسل دوسرے ہفتے مہنگائی کی شرح میں اضافے کے باعث مہنگائی کی شرح پینتالیس اعشاریہ دو آٹھ فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

پاکستان شماریات بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق ایک ہفتے میں مہنگائی 1.83 فیصد مزید بڑھ گئی۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران روز مرہ استعمال کی 23 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، حالیہ ہفتے ٹماٹر 47 روپے 42 پیسے ، پیاز 35 روپے 6 پیسے اور آلو 3 روپے 88 پیسے فی کلو مہنگے ہوئے۔

اعدادوشمار کے مطابق انڈے 7 روپے 25 پیسے فی درجن مہنگے ہوئے، لہسن 7 روپے 43 پیسے ، دال ماش 4 روپے 10 پیسے، برائلر مرغی 2 روپے 48 پیسے فی کلو اور بیس کلو آٹے کا تھیلا 7 روپے 10 پیسے مہنگا ہوا۔

پاکستان شماریات بیورو  کے مطابق دال چنا، ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر، چاول ،بیف اور مٹن  کی قیمت بھی بڑھی۔

پاکستان شماریات بیورو کے مطابق حالیہ ہفتے روزمرہ استعمال کی 7 اشیاء کے دام کم بھی ہوئے ہیں اور ایک ہفتے میں دال مسور خوردنی گھی ، خوردنی تیل ، کیلے اور چینی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ سستی ہوئِیں۔

عوام کا شکوہ ہے کہ حکومت نے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی انتظامی اقدامات نہیں کیے اور ہر طرف من مانے ریٹ وصول کیے جا رہے ہیں، مہنگائی سے ستائے عوام کو کہیں سے کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔

متعلقہ تحاریر