پی بی سی کا حکومت کو "نیا پاکستان سرٹیفکیٹس” سے اخراج روکنے  کا مشورہ

پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (این پی سی) سے اخراج کو روکنے کیلئے فلوٹر بانڈز پر غور کرے جبکہ این پی سی  کی  موجودہ مقررہ شرح کو فلوٹر بانڈز میں تبدیل کیا جائے، پی بی سی نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام خوش آئند ہے تاہم قرضوں کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے  حکومت کو نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (این پی سی) سے اخراج کو روکنے کیلئے فلوٹر بانڈز پر غور کرے جبکہ این پی سی  کی  موجودہ مقررہ شرح کو فلوٹر بانڈز میں تبدیل کیا جائے ۔

پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پراپنے ایک ٹھریڈ میں وفاقی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (این پی سی) سے اخراج کو روکنے کے لیے فلوٹر بانڈز پر غور کرے ۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت کی غیر واضح پالیسی سے تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑرہا ہے، زبیر موتی والا

پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی)  کے  پیغام میں کہا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 2.5 بلین ڈالر تک کی آئی ٹی برآمدات پاکستان کو نہیں بھیجی جاتیں جبکہ ملک  پہلے ہی  زرمبادلہ کی کمی کا شکار  ہے ۔

پاکستان بزنس کونسل نے ترسیلات زر کو بڑھانے کے لیے، اشیا کی طرح کی خدمات پر برآمدی چھوٹ کی تجویز پیش کی جو خدمات کی دستاویزی برآمدات کی ترسیلات کو ترغیب دے گی۔

ٹویٹس کی ایک سیریز میں پی بی سی نے حکومت کو مزید مشورہ دیا کہ وہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس سے اخراج کو روکنے کے لیے فلوٹر بانڈز پر غور کرے جبکہ این پی سی موجودہ فکسڈ ریٹ کو فلوٹر بانڈز میں تبدیل کرے ۔

یہ بھی پڑھیے

ورلڈ بینک نے پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نصف ہونے کی پیش گوئی کردی

پی بی سی نےتسلیم کیا کہ اگرچہ آئی ایم ایف پروگرام امداد فراہم کرنے کیلئے دوست ممالک کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے اہم ہے مگر قرضوں کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر