الیکشن کمیشن نے پنجاب اور کے پی کے انتخابات کیلئے 14 ارب کی اضافی گرانٹ مانگ لی

ای سی پی نے گورنرز کے نام مراسلوں میں کہا ہے کہ پنجاب میں عام انتخابات 13 اپریل سے پہلے کرانا ضروری ہیں جب کہ گورنر خیبرپختونخوا 15 سے 17 اپریل کے درمیان انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی ، پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کے لئے حکومت سے 14 ارب روپے کی اضافی گرانٹ مانگ لی۔ الیکشن کمیشن پنجاب اور خیبرپختونخوا کے گورنروں کے نام مراسلے ارسال کئے ہیں۔ جن میں کہا ہے کہ پنجاب میں انتخابات 13 اپریل سے پہلے کرانا ضروری ہیں جب کہ گورنر خیبرپختونخوا 15 سے 17 اپریل کے درمیان انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی ، پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی خالی نشستوں سمیت عام انتخابات کے لیے اضافی گرانٹ مانگ لی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے وزارت خزانہ کو اس سلسلے میں ایک درخواست دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہےکہ عام انتخابات کے اخراجات 47 ارب سے بڑھ کر 61 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، 14 ارب روپے کی اضافی گرانٹ عام انتخابات کے لیے درکار ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

فواد چوہدری ہتھکڑی میں راہداری ریمانڈ کیلئے کینٹ کچہری میں پیش، عدالت نے استدعا منظور کرلی

لاہور ڈیفنس کے اسکول میں طالبہ پر تشدد میں ملوث طالبعلم شاہ رخ جتوئی کابھائی نکلا

الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیےمنظور شدہ 47 میں سے 25 ارب روپے فوری درکار ہیں ، 25 ارب روپے میں سے 5 ارب روپے پہلے ہی جاری کیے جاچکے ہیں جب کہ 25 ارب میں سے بقایا  20 ارب روپے بھی فوری جاری کیے جائیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ گورنر پنجاب 9 سے 13 اپریل کے درمیان پولنگ کی تاریخ مقرر کریں۔جب کہ گورنر کے پی کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 15 سے 17 اپریل کے درمیان خیبر پختونخوا میں پولنگ کی تاریخ مقرر کی جائے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ گورنر اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر الیکشن کے انعقاد کی تاریخ دینےکا پابند ہے، پنجاب اسمبلی کے 90 روز 14 جنوری سے شروع ہوتے ہیں، پنجاب اسمبلی کے لیے 13 اپریل کے بعد پولنگ کی تاریخ نہیں رکھی جا سکتی۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کے پی اسمبلی کے 90 روز 18 جنوری سے شروع ہوتے ہیں اور کے پی اسمبلی کے لیے 17 اپریل کے بعد پولنگ کی تاریخ نہیں رکھی جا سکتی۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن پروگرام مکمل کرنے کے لیے 54 دن درکار ہیں۔ پنجاب اسمبلی 14 جنوری کو اور خیبر پختونخوا اسمبلی 18 جنوری کو تحلیل ہوئی تھی۔

متعلقہ تحاریر