عمران خان نے مبینہ بیٹی سے متعلق دائر درخواست پر تحریری جواب جمع کرا دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ہے کہ بطور رکن اسمبلی آفس چھوڑ چکے ہیں اور اب قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے اس لئے ان کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں، آرٹیکل 199 کے تحت یہ عدالت اس درخواست نہیں سن سکتی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مبینہ بیٹی ٹیریان کو ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیئے جانے کے لئے دائر کیس میں جواب عدالت میں جمع کرادیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے مبینہ بیٹی ٹیریان وائٹ کے معاملے کو چھپانے پر نااہلی کیس کی سماعت ہوئی۔

عمران خان  کی جانب سے ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے تحریری جواب جمع کرایا۔ جس میں انہوں نے عدالت عالیہ سے اپنے خلاف کیس ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے درخواست خارج کرنے کی استدعا کردی۔

یہ بھی پڑھیے

نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مکمل ناکام

پاسپورٹ کی فیس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا، نادرا نے افواہوں کو مسترد کردیا

عمران خان نے تحریری جواب میں کہا کہ بطور رکن اسمبلی آفس چھوڑ چکے ہیں اور اب قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے اس لئے ان کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں، آرٹیکل 199 کے تحت یہ عدالت اس درخواست نہیں سن سکتی۔

عمران خان نے فیصل واوڈا کیس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کیس سننے والے موجودہ چیف جسٹس پر بالواسطہ اعتراض بھی اٹھا دیا۔

عمران خان نے تحریری جواب میں موقف اختیار کیا کہ یہ عدالت اس کیس کے حوالے سے پہلے بھی فیصلہ کر چکی ہے، ٹیریان وائٹ کیس پر نااہلی کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے خارج کر چکی، ہائی کورٹ کے چار جج اس معاملے کو سننے سے پہلے معذرت کر چکے، عبدالوہاب بلوچ نے اسی معاملے پر پہلے بھی درخواست دائر کی تھی، یکم اگست 2018 کو جسٹس عامر فاروق اس کیس کو سننے سے معذرت کر چکے، جو جج پہلے کیس سے معذرت کر چکے ہوں وہ دوبارہ اسے نہیں سن سکتے۔

تحریری جواب میں مزید کہا گیا کہ عمران خان اب پبلک آفس ہولڈر نہیں رہے اس لیے نااہلی درخواست قابل سماعت نہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ آئینی دائرہ اختیار میں عمران خان کے کسی بیان حلفی کا جائزہ نہیں لے سکتی، بیان حلفی کے جائزے کے لیے مجاز فورم پر گواہ اور شواہد پیش کرنے کے ساتھ گواہوں پر جرح کی ضرورت ہے۔

ماضی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ عمران خان کے خلاف ایسی ہی ایک درخواست کو مسترد کر چکا ہے۔

اس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ موقف اپنایا تھا کہ ایسی پٹیشن کو سنتے ہوئے اس بچی کے حقوق متاثر ہوں گے کیونکہ ایسی درخواست کی سماعت کے دوران بہت سے اسلامی نکات سامنے آئیں گے جو کہ میڈیا پر رپورٹ ہوں گے اور اس سے مذکورہ بچی کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر ٹیریان وائٹ خود آکر اس ضمن میں عدالت میں درخواست دیں تو پھرعدالت اس معاملے کو سن سکتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کی طرف سے گذشتہ چند ماہ کے دوران اس درخواست کو جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کرنا اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اس معاملے کو نمٹانا چاہتی ہے۔

2004 میں امریکہ میں مقیم 43 سالہ برطانوی سیتا وائٹ کی موت ہوئی تو برطابوی اخبار دی مرر اور امریکی اخبار دی نیو یارک پوسٹ نے لکھا کہ وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ’عمران خان کی گرل فرینڈ تھیں‘۔ رپورٹ کے مطابق سیتا کے ہاں بیٹی (ٹیریان وائٹ) پیدا ہوئیں جن کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا وہ عمران خان کی بیٹی ہیں۔

اخباری رپورٹس کے مطابق سیتا وائٹ کی موت کیلیفورنیا میں سانتا مونیکا کی یوگا کلاس کے دوران ہوئی تھی جو بیورلے ہلز میں ان کے شاندار مکان کے قریب واقع تھا۔

اخباری رپورٹس کے مطابق ان کی موت سے صرف چند ہفتے پہلے ہی انھیں آٹھ سال کی قانونی لڑائی کے بعد اپنے مرحوم باپ کی جائیداد سے ایک تصفیہ کے ذریعے تین ملین ڈالر کی رقم ملی تھی۔

متعلقہ تحاریر