جہاں قانون طاقتور ہوتا ہے وہ طبقاتی نظام ختم ہو جاتا ہے، عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے جب آپ لوگوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتے ہیں تو لوگوں کا چھپا ہوا ٹیلنٹ باہر آجاتا ہے ، کبھی بھی غلام انسانوں نے کوئی بڑے کام نہیں کیے۔ جسمانی سے ذہنی غلامی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی رول آف لاء نہیں ہے ، یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہے ، طاقتور قبضہ مافیا کمزوروں کی زمینوں پر قبضہ کرلیتے ہیں ، میں کوئی اسلامی اسکالر نہیں ہوں مگر میں نے اسلام کی تاریخ پڑھی ہے ، آپﷺ ساری دنیا کے لیے رحمت بن کر آئے ، مدینہ دنیا کی پہلی اسلامی فلاحی ریاست تھی ۔ کرکٹ کی وجہ سے ساری دنیا کو دیکھنے کا موقع ملا۔

ان خیالات کا اظہار چیئرمین تحریک انصاف نے پی ایچ ڈی اسکالر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا میں کوئی اسلامی اسکالر نہیں ادنیٰ طالب علم ہوں۔ میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے اوپر کافی اسٹیڈی کی ہے۔ مجھے مغربی کلچر کو اندر سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں جو اپنا تجزیہ آپ لوگوں کے سامنے رکھتا ہوں وہ میرے اپنے تجربات ہوتے ہیں۔ میں سیاسیات میں ڈگری حاصل کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مریم نواز دو روز سے اسلام آباد میں شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی مُتَمَنّی

جنرل باجوہ اور شہباز شریف کے قریبی تعلقات رجیم چیج کی وجہ بنے، عمران خان

ان کا کہنا تھا کہ قرآن مجید میں بار بار انصاف کی تلقین کی گئی ہے، ہمارے اسکالرز اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ  پاکستان کو اس کی روح  کے مطابق اسلامی ریاست بنانے میں کردار ادا کریں ، کیونکہ پاکستان اسلام کے نام حاصل کیا گیا تھا۔ ترکی میں سلطنت عثمانیہ ختم ہوئی تو کمال اتاترک نے ترکی کو نیشنلسٹ کنٹری ڈکلیئرڈ کیا تھا۔ اسی طرح کے دیگر ممالک بھی نیشنلسٹ ہیں۔ جبکہ ہمارا ملک ایک نظریے کی بنیاد پر بنا تھا ، دنیا میں دو ملک مذہبی نظریے کے بنیاد پر بنے ہیں جن میں سے پاکستان ایک ہے۔ بانی پاکستان نے اس کے ابتدائی آئین میں قرآن و سنہ کو اس کا آئین قرار دیا تھا۔ انہوں نے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست ڈکلیئرڈ کیا تھا۔ اسلامی اسکالرز کا کام ہے کہ وہ عوام کو پیغام دیں کہ مدینہ کی اسلامی ریاست کا اصل مقصد کیا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا ہمیں یہ پرچار کرنا ہوگا کہ کن کو ترقی یافتہ ملک کہتے ہیں اور کن کو غیرترقی یافتہ ممالک کہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ہمارے لوگ غیرمسلموں کے ممالک میں جاتے ہیں کیوں جاتے ہیں؟ کیونکہ ان کو پتا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی ہے۔ ہمارے نبیﷺ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ لے کر آئے تھے ، اس لیے جو انسانی معاشرہ ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلے گا وہ ترقی کرے گا ، اس کے لیے مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم سے پہلے یورپ اوپر گیا ، آج امریکا اوپر ہے ، چین اوپر جارہا ہے ، حالانکہ یہ مسلمان ممالک نہیں ہیں ، اگر اس کی گہرائی پر جائیں گے تو پتا چلے گا یہ وہ ممالک ہیں جو نبیﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں  پر چل رہے ہیں۔ جب آپﷺ نے مدینہ ریاست بنائی تھی تو دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب آیا تھا ، کبھی اتنے کم وقت میں دنیا کی تاریخ میں تبدیلی نہیں آئی تھی جو نبیﷺ لے کر آئے تھے۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہناتھا کہ غلاموں کی پرواز اوپر کی طرف نہیں ہوتی ، ریاست مدینہ جو بنائی گئی وہ اصولوں کے اوپر کھڑی کی گئی ، اس کا پہلا اصول تھا عدل و انصاف ، کیونکہ قرآن مجید میں سب سے زیادہ زور انصاف پر دیا گیا ہے، جب انصاف ہوتا ہے تو طاقتور اور کمزور ایک برابر ہو جاتے ہیں ، جب آپ معاشرے میں انصاف قائم کرتے ہیں تو آپ انسان کو آزاد کردیتے ہیں۔ جب آپ لوگوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتے ہیں تو لوگوں کا چھپا ہوا ٹیلنٹ باہر آجاتا ہے ، کبھی بھی غلام انسانوں نے کوئی بڑے کام نہیں کیے۔ جسمانی سے ذہنی غلامی زیادہ خطرناک ہوتی ہے،

متعلقہ تحاریر