ملکی ترقی کے لیے خواتین کو بےنظیر بھٹو کو رول ماڈل بنانا ہوگا، اسپیکر قومی اسمبلی

راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ خواتین کی سیاسی، معاشی اور سماجی شعبوں میں نمائندگی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسلام آباد ( ) اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے خواتین کو سیاسی و معاشی طورپر بااختیار بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین بے پناہ صلاحیتوں کی مالک ہیں اور وہ سیاسی، معاشی اور سماجی شعبوں میں گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں خواتین پارلیمنٹرینز کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کا اہتمام قومی اسمبلی میں قائم  خواتین پارلیمانی کاکس (WPC) نے کیا جس میں اراکین پارلیمنٹ، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے

ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی تفتیش سے غیرمطمئن

شوکت ترین پر بغاوت کا مقدمہ درج، ایف آئی اے گرفتار کرنے امریکا جائے گی؟

اسپیکر قومی اسمبلی نے ایسا جامع معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا جہاں خواتین سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو مساوی حقوق اور مواقع حاصل ہوں۔انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے خواتین کے بااختیار بنانے کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو خواتین کی حقیقی رہنما تھیں اور خواتین کو بااختیار بنانا ان کا اولین مشن تھا۔انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر کی شخصیت ناامیدی میں امید کی کرن تھیں انہوں نے ہر مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے وویمن پارلیمانی کاکس ڈبلیو پی سی کی سیکرٹری محترمہ شاہدہ رحمانی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو پی سی خواتین کے حقوق کو تحفظ دینے اور قومی اور بین الاقوامی فورمز پر ان کے پاکستانی خواتین کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

انہوں نے خواتین کی سیاسی، معاشی اور سماجی کاوشوں کو سراہا۔ رکن قومی اسمبلی شاہد رحمانی نے خواتین کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کو سیاسی، معاشی اور سماجی شعبوں میں بھرپور نمائندگی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو نمائندگی دینے کے لیے ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے ان خواتین کی سیاسی، معاشی اور سماجی شعبوں میں نمائندگی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

متعلقہ تحاریر