سپریم کورٹ سے سابق سی سی پی او لاہور کے حکم امتناع میں 16 فروری تک توسیع

یاد رہے کہ غلام محمود ڈوگر نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کے حکم امتناع میں 16 فروری تک توسیع کر دی ہے۔

سپریم کورٹ میں سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے تو غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر روک دی تھی۔ وکیل سابق سی سی پی او لاہور نے جواب دیا کہ عدالتی حکم کے باوجود غلام محمود ڈوگر کو دوبارہ ٹرانسفر کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا، سیکریٹری الیکشن

پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب، ہڑتال ختم

وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ 23 جنوری کو غلام محمود ڈوگر کو سروس اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن پنجاب میں رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔

وکیل سی سی پی او کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے دو مرتبہ نوٹسز کرنے کے باوجود آج بھی کوئی وفاق کی جانب سے پیش نہیں ہوا۔

سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر ایڈیشنل اٹارنی عامر رحمان عدالت میں پیش۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ مسٹر عامر رحمان عدالتی حکم کے باوجود ڈوگر صاحب کو دوبارہ ٹرانسفر کیسے کردیا گیا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ مجھے معلومات نہیں مہلت دی جائے۔

بعدازاں عدالت نے غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر پر وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ، کیس کی مزید سماعت 16 فروری تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ غلام محمود ڈوگر کو سروس ٹربیونل کے ایک بنچ نے بحال، دوسرے نے معطل کیا تھا۔ غلام محمود ڈوگر نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

متعلقہ تحاریر