چوروں نے منی بجٹ کے ذریعےعوام پرمہنگائی کا مزید بوجھ ڈال دیا، عمران خان

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ چوروں نے ملک کو تباہی کی جانب گامزن کردیا ہے ، ہم پورا ملک بند کرسکتے ہیں مگر اس سے ملک کو نقصان ہوگا ،اس لیے ہم پر امن طور پر جیل بھرو تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ چند لوگ اپنے ذاتی مفاد کیلئے ملک کو تباہ نہیں کرسکتے ہیں، اس لیے ہم پرامن احتجاج جیل بھرو تحریک شروع کرنے جارہے ہیں۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو پورا ملک بند کرسکتے ہیں مگر ملک کے حالات پہلے ہی بد ترین ہوچکے ہیں، اس لیے پرامن احتجاجی  جیل بھرو تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب اور کےپی کے انتخابات: ای سی پی اجلاس بےنتیجہ ختم

سابق وزیراعظم نےاپنے وڈیو خطاب میں کہا کہ عدالت نے انتخابات کا حکم  دیا ہے جبکہ وہ الیکشن سے بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں۔الیکشن کمیشن انتخابات سے فرار کے لیے بہانے بازیاں کر رہا ہے ۔

پی ٹی آئی کے سربراہ  عمران خان نے کہا کہ آئین پاکستان نوے روز مین الیکشن کا حکم دیتا ہے مگر یہ اپنی شکست کے خوف سے انتخابات سے بھاگ رہے ہیں  ،یہ لوگ ملک کو ڈبو دیں گے ۔

عمران خان نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت ہٹائی گئی تب سے کہ رہا ہوں مسائل کا حل الیکشن ہے، عوامی مینڈیٹ سے حکومت لائیں تاکہ وہ مشکل فیصلے کرسکے، سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت  کے منی بجٹ کے ذریعےعوام پرمہنگائی کا مزید بوجھ آنے والا ہے ۔ چوروں کا پلندہ جمع کرکے ہمارے اوپرمسلط کردیا گیا، پاکستان تیزی سے دلدل میں پھنستا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب منی بجٹ پیش کردیا گیا ہے جس میں گیس اور بجلی کی قیمتیں مزید بڑھیں گی، سیلزٹیکس تو ہرچیز پرانہوں نے بڑھا دیا ہے جس سے مزید مہنگائی ہوگی ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ معاملات ابھی نہیں رکیں گے، آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو بھی جائے تو مسائل مزید بڑھیں گے۔آئی ایم ایف کے پیسے آنے سے کوئی سمجھ رہا ہے سب ٹھیک ہوجائے گا تو یہ غلط ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب میں انتخابات کا شیڈول جاری نہ کرنے پر ای سی پی سے جواب طلب

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم سب کو ملکر ایک قوم بن کر اس حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی کیونکہ غلامی کی زنجیریں کبھی خود بخود گرتی نہیں ہیں، ان غلامی کی زنجیروں کو توڑنا پڑتا ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں قرضے ڈیفالٹ کرنے کا رسک 5 فیصد تھا جبکہ آج ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کو ٹرپل سی مائنس کردیا ہے۔ ہم معاشی طور پر سری لنکا جیسے حالات تک پہنچ گئے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ یہ لوگ تو خود کو تجربہ کار کہتے تھے آج دیکھ لیں کہ ملک کے ساتھ کیا کیا ہے؟ ان لوگوں کو سازش کے تحت بٹھایا گیا، اسحاق ڈار بڑھکیں مارتا تھا، کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہے ۔

متعلقہ تحاریر