فواد چوہدری کی امریکی سفیر اور سینئر حکام سے ملاقات، مخالفین کی تنقید
امریکی حکام کو پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے سیاسی مخالفین کیخلاف انسداد دہشت گردی اور گستاخی کےقانون کے غلط استعمال پر تحریک انصاف کی تشویش سے آگاہ کیا،اس طرح کی ملاقاتیں برابری کے تعلقات کی باہمی خواہش کا حصہ ہیں، رہنما تحریک انصاف

تحریک انصاف کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے امریکی سفیر سمیت امریکی حکام سے ملاقات کرکے ملک میں انسانی حقوق کی دگرگوں صورتحال اور اپوزیشن کیخلاف دہشتگردی اور گستاخی کے مقدمات کے اندراج کا معاملہ اٹھایا ہے۔
ماضی میں اپوزیشن رہنماؤں کی غیرملکی سفرا سے ملاقاتوں کی مخالفت کرنے والی تحریک انصاف کو دوعملی پر سینئر صحافیوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
صدرمملکت، عمران خان اور قاسم سوری کیخلاف آرٹیکل6کا ریفرنس لانے کی تیاری
مریم نواز کی انوکھی خواہش: آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات عمران خان ہی کرے
تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ”امریکی سفیر اور سینئر حکام سے بہت اچھی ملاقات ہوئی۔پاکستان میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال گفتگو کا مرکزی موضوع تھا“۔
فواد چوہدری نے کہاکہ”میں نے امریکی حکام کو پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے سیاسی مخالفین کیخلاف انسداد دہشت گردی اور گستاخی کےقانون کے غلط استعمال پر تحریک انصاف کی تشویش سے آگاہ کیا“۔
The political situation and PTI position on various issues came under discussion. Such meetings are part of mutual desire to have relationship based on equality and well being of people.
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) February 16, 2023
انہوں نے بتایا کہ”اس موقع پر سیاسی صورتحال اورمختلف موضوعات پر تحریک انصاف کا موقف زیربحث آیا۔اس طرح کی ملاقاتیں برابری اور لوگوں کی بھلائی پر مبنی تعلقات کی باہمی خواہش کا حصہ ہیں“۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما عمران خان ماضی میں مریم نوازسمیت اپوزیشن رہنماؤں کی غیر ملکی سفیروں سے ملاقاتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔اس بات کو جواز بناتے ہوئے سینئر صحافیوں نے فواد چوہدری کی ملاقات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سینئر صحافی طلعت حسین نے فواد چوہدری کے ٹوئٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھاکہ”یہ ایک سنگین جرم کا اعتراف ہے جو پاکستان کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی دلچسپی اور مدد کو مدعو کیا جارہا ہے،اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔ اور یہ وہی واشنگٹن ہے جسے عمران، مزاری اور ان جیسے دیگر لوگ گالیاں دینے اور الزامات لگانے سے نہیں چوکتے تھے، اب وہ ایک نجات دہندہ بن گیا ہے“۔









