حکومت کی ناقص حکمت عملی سے دہشتگردی کے خلاف اے پی سی کا انعقاد نہ ہوسکا

حکومتی ناقص حکومت عملی اور وزیراعظم شہباز شریف کے ترکیہ کے دورے کے باعث دہشتگردی کے خلاف متفقہ قومی پالیسی نہیں بن سکی، اے پی سی کیلئے تاریخ پر تاریخ دی جاتی رہی مگر منعقد نہیں کی گئی، حکومتی نااہلیوں نے دہشتگردوں کو مزید اعتماد فراہم کردیا 

حکومت  کی ناقص حکمت عملی کے وجہ سے پشاور میں بدترین خونریزی کے بعد دہشتگردوں کے خلاف متفقہ قومی پالیسی بنانے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) 2 بار ملتوی ہوچکی  ہے ۔

پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں دہشتگرد حملے کے بعد حکومت نےمتفقہ قومی  پالیسی بنانے کیلئے اے پی سی کے انعقاد کا اعلان کیا تاہم حکومتی ناقص حکمت عملی اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ۔

یہ بھی پڑھیے

آل پارٹیز کانفرنس کا شیڈول تبدیل، اسد قیصر نے پارٹی موقف دے دیا

پشاور پولیس لائنز مسجد پر حملے کے بعد دہشتگردوں نے کراچی میں پولیس ہیڈ آفس پر دھاوا بول دیا اس دوران  کئی اہلکار جان کی بازی ہارے مگر اے پی سی کا انعقاد تاحال ممکن نہیں ہوا ۔

حکومت نے وزیراعظم کی زیر صدارت 7 فروری کو اے پی سی بلانےکا اعلان کیا مگر اچانک ہی  وفاقی حکومت نے تاریخ میں تبدیلی کرتے ہوئے 9 فروری کو اے پی سی بلانے کا اعلان کیا ۔

وزیراعظم نے 9 فروری کو ملکی حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے ترکیہ جانے کا فیصلہ تو 9 فروری کو بھی اے پی سی کے انعقاد کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا اور پھر  نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں ہوا ۔

وزیر اطلاعات و نشریات  مریم اورنگزیب نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے بتایا تھا کہ وزیراعظم کے دورہ ترکیہ کی وجہ سے جمعرات 9 فروری کو بلائی گئی اے پی سی مؤخر کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے نئی تاریخ کا اعلان ہوگا تاہم اتحادی مشاورت میں مصروف رہے اور دہشتگردوں نے پھر سے کراچی میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر ڈالا۔

حکومت نے تاحال دہشتگردوں کے خلاف کوئی متفقہ پالیسی نہیں بنائی اور اس دوران کالعدم ٹی ٹی پی نے ایک بار پھر پولیس کو اپنے نشانے پر لیتے ہوئے کراچی میں ہیڈ آفس پر حملہ کردیا ۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے دہشتگردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد نہ ہونے کی ذمہ داری تحریک انصاف پر عائد کی اور کہا کہ  ان  وجہ سے قومی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔

پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے کو اے پی سی کیلئے باقاعدہ دعوت نامہ نہیں بھیجا۔ دعوت نامہ ملا تو اس کانفرنس میں شرکت پر مشاورت کریں گے۔

حکومت کی  ناقص حکمت عملی دہشتگردی کے خلاف متفقہ پالیسی بنانے تاحال ناکام نظر آرہی ہے جبکہ دہشتگرد سیکیورٹی فورسز اور عوام کو اپنی گولیاں کا نشانہ بنانے میں سرگرم عمل ہیں۔

متعلقہ تحاریر