عمران خان کا سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے کورٹ مارشل کا مطالبہ

عمران خان نے زمان پارک میں صحافیوں کے گفتگو کے دوران کہا کہ عسکری ادارہ جنرل باجوہ  کے غیر قانونی اقدامات کی تحقیقات کرے ، جنرل باجوہ نے روس یوکرین تنازعے پر حکومتی پالیسی سے متضاد بیان دیا

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ غیرقانونی فون ٹیپنگ کے ذریعے ججز پر دباؤ ڈالنے اورانہیں آئین کی بالادستی کیلئے کردار ادا کرنے سے باز رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

عمران خان نے زمان پارک میں صحافیوں اور کالم نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ خصوصاً ججز کیخلاف گھٹیا پراپیگنڈہ مہم شرمناک ہے۔ نون لیگ عدلیہ پر یلغار اور ججوں کی خریدو فروخت جیسی رسم کی موجد ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چیئرمین نیب آفتاب سلطان کٹھ پتلی بننے کے بجائے عہدہ چھوڑنے کو ترجیح دینگے

تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ عدلیہ قوم کی واحد امید، ججز کو کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر دستور و قانون کو بالادست بنانا چاہئیے۔ چیف الیکشن کمشنر دستور کی پامالیوں میں پی ڈی ایم کا کلیدی معاون ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اتحادیوں کو انتقام کا نشانہ بنا کر انہیں خوفزدہ کرنے اور سیاسی آمریت کو پروان چڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے قیام کے بغیر استحکام آنا ناممکن ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ لاقانونیت، جمہوری اقدار کی پامالی اور معاشی تباہی کے اس شرمناک سلسلے کو قوم کی حمایت و تائید سے روکیں گے، سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام حاصل نہیں ہوسکتا ہے ۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم کو غلام بنانے کیلئے بنیادی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ جیل بھرو تحریک کا اعلان کرچکا ہوں، حقیقی آزادی کیلئے رضاکارانہ طور پر جیلوں کو بھریں گے۔

انہوں نے کہا کہ انتشار کی راہ پر نکلنے کی بجائے آئین میں رہتے ہوئےمزاحمت کیلئے  ‘جیل بھرو تحریک’ جیسا جمہوری طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہمارے لوگوں پر مقدمے ، ان کی بلاجواز گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  سابق آرمی چیف جنرل  قمر جاوید باجوہ نے اعتراف کیا کہ انہوں نےحکومت تبدیل کی۔جنرل باجوہ نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی اور تسلیم کیا کہ نیب ان کے زیر اثر تھا۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت کی ناقص حکمت عملی سے دہشتگردی کے خلاف اے پی سی کا انعقاد نہ ہوسکا

عمران خان کا کہنا تھا کہ  جنرل قمر جاوید باجوہ کہتے تھے امریکہ خوش نہیں ہے چنانچہ روس یوکرین تنازعے پر حکومتی پالیسی سے متضاد بیان داغ دیا۔ ہمیں یوکرین،روس کے معاملے پر نیوٹرل رہنا چاہیے تھا۔

پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ باجوہ نے تسلیم کیا کہ انہوں نے ریکارڈنگز کیں جوکہ ایک غیر قانونی اقدام ہے۔ ادارے کو جنرل باجوہ کے اس اقدام کی انکوائری اپنے طور پر کروانی چاہئیے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ صدرمملکت نے فنانس بل کے آرڈیننس پر دستخط نہ کرکے ایک احسن اقدام کیا۔پارلیمنٹ میں نئے فنانس بل سے اب ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں معاشی اشاریے مثبت تھے۔ترسیلات زر، زراعت ،انڈسٹری اور روزگار کے مواقعوں میں اضافہ ہو رہا تھا،ملک میں سرمایہ کاری آ رہی تھی ۔

عمران خان نے کہا کہ فیچ ادارے کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ ٹرپل سی نیگیٹیو اور ڈیفالٹ کا خطرہ 100 فیصد تک ہے ۔ ہمارے دور میں ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ صرف 5 فیصد تک تھا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ ہم بھی آئی ایم ایف کے پروگرام میں  تھےمگر  اس کے باجود پاکستان نے ترقی کی۔  ہم 16 ارب ڈالرکے ذخائر چھوڑ کر گئے جو  آج  تقریباً 3 ارب رہ گئے۔

یہ بھی پڑھیے

عطاء اللہ تارڑ کا سپریم کورٹ سے مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کا مطالبہ

عمران خان نے کہا کہ روپے کی گراوٹ کاا ثر ہر شعبے پر آرہا ہے  اور مہنگائی عوا م کیلئے بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے ۔99 کی طرح ن لیگ نے 2018 میں  بھی تباہ حال معیشت اپنے پیچھے چھوڑی۔

پی ٹی آئ کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے انتخابات کےذریعے ملک کو  بحران سےنکالنے کیلئے اپنی دو حکومتوں کی قربانی دی مگر اس کے بعد جو نگران حکومتیں  لائی گئی ہیں ہمارے خلاف  ہیں۔

متعلقہ تحاریر