قومی اسمبلی میں ضمنی فنانس بل منظور، وزیرخزانہ کا مہنگائی بے قابو ہونے کا اعتراف

بزنس کلاس میں فضائی سفر پر 75 ہزار سے ڈھائی لاکھ روپے تک ایکسائز ڈیوٹی عائد، اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں مہنگائی قابو سے باہر ہے، لیکن کیا یہ سب چار ماہ میں ہوا؟ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ اسی ہفتے ہوجائے گا، وزیرخزانہ اسحاق ڈار

قومی اسمبلی نے ضمنی فنانس بل 2023 کثرت رائے سے منظور کر لیا۔حکومت نے بزنس کلاس میں بیرون ملک فضائی سفر پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھادی۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے ملک میں بے قابو مہنگائی کاعتراف کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں بھی ٹیکسز لگانے کا کوئی شوق نہیں تھا، اضافی ٹیکسز کی کم سے کم شرح رکھنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیے

منی بجٹ کی عدم منظوری کے منفی اثرات سے اسٹاک مارکیٹ میں بدترین مندی

ترسیلات زر16 ارب سے کم ہوکر 2 ارب ڈالر ہوگئی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ محدود ہوا

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ضمنی مالیاتی پر ہونے والی بحث کے بعد ضمنی مالیاتی ترمیمی بل 2023 میں چند مزید ترامیم پیش کیں۔

اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ بیرون ملک بزنس کلاس میں فضائی سفر پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے، جنوبی امریکا جانے والے بزنس کلاس ٹکٹ پر ڈھائی لاکھ روپے ایکسائز ڈیوٹی فکس کر دی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ افریقا اور مشرق وسطٰی کے بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس ٹکٹ پر ایکسائز ڈیوٹی 75 ہزار  روپے فکس کی گئی ہے جبکہ یورپی ممالک کے فضائی ٹکٹ پر ایکسائز ڈیوٹی ڈیڑھ لاکھ روپے فکس کر دی گئی ہے جبکہ مشرقی وسطٰی اور ایشیائی ممالک کے لیے بزنس اور فرسٹ کلاس پر ڈیوٹی ڈیڑھ لاکھ روپے فکس کی گئی ہے۔

قبل ازیں ایوان زیریں میں اپنے بیان میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا  کہ ضمنی مالیاتی بل کے حوالے سے ارکان کی تجاویز کو سراہتے ہیں لیکن ضمنی مالیاتی بل مجبوری کے تحت لانا پڑا، میں ایوان کی ضمنی فنانس بل پر بحث میں حصہ لینےکا مشکور ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ معزز اراکین کی بجٹ تجاویز پر غور کیا ہے، ہمیں بھی ٹیکسز لگانے کا کوئی شوق نہیں تھا، اضافی ٹیکسز کی کم سے کم شرح رکھنے کی کوشش کی۔

 اسحاق ڈار کا کہنا تھا 3000 ارب کی بجلی بناتے ہیں لیکن صرف 1550 ارب روپے اکھٹا کر پاتے ہیں، پاور سیکٹر کو بجلی چوری، لائن لاسز جیسے مسائل کا سامنا ہے، حکومت ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف پورا کرےگی۔

ان کا کہنا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں مہنگائی قابو سے باہر ہے، لیکن کیا یہ سب چار ماہ میں ہوا؟ پچھلے دور حکومت میں پاکستان کی معیشت کا بیڑا غرق کیا گیا، آئی ایم ایف سے معاہدہ کر کے توڑا گیا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا حکومت معاشی استحکام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے، ہم نے 10 دن آئی ایم سے مذاکرت کیے، مذاکرات میں آئی ایم ایف کو 170 ارب کے ٹیکسز پر راضی کیا، گزشتہ حکومت نے معاشی نظم و ضبط توڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو آئی ایم ایف معاہدے سے پیچھے ہٹ گئے، بی آئی ایس پی وظیفے میں 25 فیصد اضافہ کر رہے ہیں، اب بی آئی ایس پی کا بجٹ 360 ارب سے بڑھا کر 400 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا حکومتی اخراجات کم کرنےکا پلان وزیراعظم ایوان میں پیش کریں گے۔

بعد ازاں قومی اسمبلی نے ضمنی مالیاتی بل 2023 کثرت رائے سے منطور کر لیا جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس بدھ کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا۔ علاوہ ازیں گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے  وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے تمام معاملات تقریباً مکمل ہوگئے، معاملات نمٹانے میں لگے ہوئے ہیں، آئی ایم ایف سے معاہدہ اسی ہفتے ہو جائے گا ۔

متعلقہ تحاریر