چیئرمین نیب آفتاب سلطان حکومتی دباؤ پر گرفتاریوں سے انکار کرکے مستعفی ہوگئے

مجھے کچھ چیزوں کے بارے میں کہا گیا جو مجھے قبول نہیں تھیں، میں نے بتایا کہ میں شرائط کےساتھ کام جاری نہیں رکھ سکتا، میرا استعفیٰ قبول کرلیا گیا ہے اور ہمارا اختتام اچھے موڑ پر ہوا ہے، وزیراعظم نے میرے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا، آفتاب سلطان کی نجی ٹی وی سے گفتگو

قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ آفتاب سلطان نے حکومتی دباؤ پر گرفتاریوں سے انکار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے  استعفیٰ دے دیا۔

 وزیراعظم شہبازشریف نے چیئرمین نیب آفتاب سلطان کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔ چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے وزیراعظم سے ملاقات میں کہا کہ وہ اس ماحول میں کام نہیں کرسکتے۔

یہ بھی پڑھیے

چیئرمین نیب آفتاب سلطان کٹھ پتلی بننے کے بجائے عہدہ چھوڑنے کو ترجیح دینگے

سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نیب اور ایف آئی اے کے ریڈار پر آگئے

دی نیوز کے ایڈیٹر انوسٹی گیشن انصار عباسی کے مطابق آفتاب سلطان نے کسی کی خواہش پر کام کرنے سے انکار کردیا تھا، وہ نہیں چاہتے تھےکہ وہ سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی طرح کا کردار ادا کریں۔

ذرائع کے مطابق آفتاب سلطان پرکچھ گرفتاریوں کےلیے دباؤ تھا لیکن انہوں نےگرفتاریوں سے انکار کر دیا۔ آفتاب سلطان کا تعلق پولیس سروس پاکستان سے ہے اور وہ گریڈ 22 کے آفیسر ہیں، آفتاب سلطان ڈی جی آئی بی سمیت دیگر اہم عہدوں پر بھی تعینات رہے۔ آفتاب سلطان نے سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی ریٹائرمنٹ کے بعد جولائی 2022 کو نیب کی سربراہی سنبھالی تھی۔

جیو نیوز سےگفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین نیب آفتاب سلطان کا کہنا تھا کہ میں نے کچھ دن پہلے استعفیٰ دیا تھا، مجھے کچھ چیزوں کے بارے میں کہا گیا جو مجھے قبول نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے بتایا کہ میں شرائط کےساتھ کام جاری نہیں رکھ سکتا، میرا استعفیٰ قبول کرلیا گیا ہے اور ہمارا اختتام اچھے موڑ پر ہوا ہے، وزیراعظم نے میرے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا، میری بھی ان کے لیے نیک خواہشات ہیں۔

متعلقہ تحاریر