پنجاب اور کےپی میں انتخابات کا معاملہ: سپریم کورٹ میں باقاعدہ سماعت سے قبل اہم سوالات اٹھ گئے

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کی تاریخوں کے اعلان میں تاخیر کے حوالے سے گذشتہ روز سوموٹو نوٹس لیا تھا، جس کی پہلی سماعت آج ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردی گئی ، چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا ہے کہ ہم نے اس کیس کو سننے کےلیے اگلے ہفتے کو شیڈول منسوخ کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

سی ٹی ڈی اور پولیس کی لکی مروت میں مشترکہ کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

توہین عدالت کیس: لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان ، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں ، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، وزیراعظم شہباز شریف ، چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز ، اٹارنی جنرل ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے گورنرز ، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ، پی ڈی ایم ، اور اسپیکرز کو بھی نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے ملنے والی خبروں کو تمام فریقین نوٹس تصور کریں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

لارجر بینچ میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال سمیت جسٹس یحیٰ آفریدی ، جسٹس اطہر من اللہ ، جسٹس منیب اختر ، جسٹس اعجازالاحسن ، جسٹس مظاہر اکبر علی ، جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس جمال خان مندوخیل لارجز بینچ میں شامل ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی تحلیل کے بعد انتخابات کا اعلان آئین کی رو سے کروانا مقصود ہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جس کا جواب جاننے کے لیے ہم نے ازخود نوٹس لیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان میں تاخیر کے حوالے سے کیسز کی سماعت جاری ہے ، لیکن جب صدر پاکستان کی طرف سے تاریخ کا اعلان کردیا گیا ، تو ایک آئینی بحران کھڑا ہو گیا کہ اس اہم سوال کا جواب کون دے گا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انتحابات کا مسئلہ وضاحت طلب ہے، ہم ارادہ رکھتے ہیں کہ آپ سب کو سنیں گے لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے سماعت طویل نہیں کریں گے، تیاری کریں کیس کی سماعت سوموار سے ہوگی۔

دورانِ سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میرے ازخود نوٹس سے متعلق کچھ تحفظات ہیں، یہ ازخود نوٹس نہیں بنتا، ہمارے سامنے دو اسمبلیوں کے اسپیکر کی درخواستیں ہیں، یہ ازخود نوٹس جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کے نوٹ پرلیا گیا، اس کیس میں چیف الیکشن کمشنرکو بھی بلایا گیا جوکہ فریق نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ سوال دونوں اسمبلیوں کے اسپیکرز نے اپنی درخواستوں میں شامل کیے ہیں لیکن سپریم کورٹ نے صرف آئینی نکتہ دیکھنا ہے اور اس پر عملدرآمد کرانا ہے، ہم صرف آئین کی تشریح اور آئین کی عملداری کے لیے بیٹھے ہیں۔

دوران بینچ کے رکن جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ وہ اس میں مزید ایک سوال ایڈ کروانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ "کیا جو اسمبلیاں تحلیل کی گئی ہیں ، ان کو آئینی طور پر تحلیل کرنا درست عمل تھا۔؟

چیف جسٹس نے جسٹس اطہر من اللہ کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ان کے سوال کو آرڈر میں انسٹال کرنے کی اجازت دے دی۔

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کیس کی سماعت کل صبح 11 بجے ہو گی تاہم اٹارنی جنرل نے کیس کی مکمل تیاری کے لیے پیر وقت تک کا وقت مانگا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے گئے ، ان تمام فریقین کو سننا ہے اور حل تلاش کرنا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار وضاحت طلب ہے۔ پنجاب اور کےپی اسمبلیاں بالترتیب 14 اور 17 جنوری کو تحلیل ہوئی تھیں۔ جبکہ آرٹیکل 224 ٹو کے تحت انتخابات اسمبلی کی تحلیل کے 90 روز کے اندر کرانے ہوتے ہیں۔ آرٹیکل 224 اے ایک ٹائم فریم دیتا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آئین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کرے گا ، چاہتے ہیں کہ انتخابات آئین کے مطابق ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے تین معاملات کو سننا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب ازخود نوٹس تین سوالات کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے 3 معاملات کو سننا ہے، صدرپاکستان نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا، آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 دنوں میں انتخابات ہوں گے، سیکشن 57 کے تحت صدر نے انتخابات کا اعلان کیا ہے، دیکھنا ہے صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد تاریخ دینا کس کا اختیار ہے۔

دوران سماعت جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں تمام سیاسی جماعتوں کو  سنا جانا چاہیے ، کیونکہ جمہوریت میں سیاسی جماعتیں ہی حکومت بناتی ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا اسمبلیاں کسی کی ڈکٹیشن پر ختم ہوسکتی ہیں؟نمائندے 5 سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں تو کسی شخص کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل کیسے ہوسکتی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم ایشو ہے ، اس کا مقصد شفافیت اور اعتماد کی بات ہے ، ہائی کورٹ کا ریکارڈ بھی منگوایا جانا چاہیے۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا ہمیں اس کیس میں آئینی شقوں کو بھی دیکھنا ہے۔

پہلا سوال یہ ہوگا کہ اسمبلی آئین کے تحت تحلیل ہوئی یا نہیں۔؟

دوسرا سوال یہ ہوگا کہ اسمبلی کی تحلیل کو آئین کے آرٹیکل 184 (3) کو دیکھنا ہوگا۔؟

جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا ان حالات میں ، میری رائے میں یہ کیس 184 (3) کا نہیں بنتا۔

جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سے کچھ آڈیوز سامنے آئی ہیں ، ایک مبینہ آڈیو میں عابد زبیری کچھ ججز کے حوالے سے بات کررہے ہیں۔

دوران سماعت صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ جاری کی ہے۔

متعلقہ تحاریر