جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن کا بینچ سے الگ ہونے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں

سپریم کورٹ آف پاکستان 1976 ، 1991 اور 2001 میں اپنے آرڈرز میں کہہ چکی ہے کہ بینچ سے الگ ہونا ججز کی صوابدید پر منحصر ہے۔

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کی تاریخ دینے میں تاخیر پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس ، وکیل فاروق ایچ نائیک اور پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں سمیت پاکستان بار کونسل نے لارجر بینچ کے دو ججز پر اعتراض اٹھا دیا ہے ، جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان 1976 ، 1991 اور 2001 میں اپنے آرڈرز میں کہہ چکی ہے کہ بینچ سے الگ ہونا ججز کی صوابدید پر منحصر ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے لیے تاریخ دینے پر تاخیر پر گذشتہ ہفتے سوموٹو نوٹس لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مظفر گڑھ میں سستے آٹے کیلیے ذلیل و خوار ہونے والے شہریوں پر لاٹھی چارج

ہم بحیثیت قوم پاگل پن کی حد تک قدامت پسند ہو چکے ہیں، مستنصر حسین تارڑ

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کے لیے پہلی سماعت پیر کے روز مقرر کی تھی ، جس کے لیے چیف جسٹس نے 9 رکنی لارجز بینچ تشکیل دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان ، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں ، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، وزیراعظم شہباز شریف ، چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز ، اٹارنی جنرل ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے گورنرز ، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ، پی ڈی ایم ، اور اسپیکرز کو بھی نوٹسز جاری کیے تھے۔

لارجر بینچ میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال سمیت جسٹس یحیٰ آفریدی ، جسٹس اطہر من اللہ ، جسٹس منیب اختر ، جسٹس اعجازالاحسن ، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی ، جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس جمال خان مندوخیل لارجز بینچ میں شامل ہیں۔

جمعہ کے روز ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک ، پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں اور پاکستان بار کونسل نے لارجز بینچ میں شامل دو ججر پر اعتراض اٹھا دیئے۔

دوران سماعت فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا ، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کے بینچ میں شامل ہونے پراعتراض ہے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ میں نہایت احترام سے ججز کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض کر رہا ہوں ، اعتراض کرنے کا فیصلہ قائدین نے کیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان بار کونسل ، جے یو آئی ایف ، مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی 2 ججز پراعتراض اٹھایا گیا ہے۔

اعتراض یہ اٹھایا گیا کہ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو لارجز بینچ کا حصہ نہ بنایا جائے۔

موجودہ کیس میں بینچ کی تشکیل پر اعتراضات اپنی جگہ پر موجود ہیں تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان 1976 میں خان عبدالولی خان کیس میں ، 1992 میں بےنظیر بھٹو کیس میں اور 2001 میں آصف علی زرداری کیس میں بینچ اور ججز پر اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دے چکی ہے کہ بینچ میں بیٹھنا یا نہ بیٹھنا خالصتاً جج کی اپنی صوابدید اور ضمیر پر منحصر ہے کہ ہو بینچ میں بیٹھنا چاہتا ہے یا نہیں۔

Orders of the Supreme Court

Orders of the Supreme Court

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے گذشتہ احکامات کی روشنی میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن کا لارجز بینچ سے الگ ہونے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر