ملک بھر کی وکلاء تنظیموں نے سپریم کورٹ سے آئین کی بالادستی کا مطالبہ کردیا
وکلاء تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسی ملکی ادارے سے لڑائی نہیں چاہتے صرف آئین کی عمل داری ، قانون کی حکمرانی کے خواہاں ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ بار کی نومنتخب باڈی اور دیگر وکلاء تنظیموں نے اس بات پر متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ آئین سے انحراف نہیں ہونا چاہیے ، اگر آئین انتخابات 90 روز میں ہونے کا لکھا گیا ہے تو انتخابات 90 روز میں ہی ہونے چاہئیں ، نومنتخت باڈی نے کہا ہے کہ ہم سپریم کورٹ کے پیچھے کھڑے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ آئین کے تحت فیصلہ کرے۔
لاہور ہائی کورٹ بار اور دیگر وکلاء تنظیموں نے گذشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کسی ملکی ادارے سے لڑائی نہیں چاہتے صرف آئین کی عمل داری ، قانون کی حکمرانی کے خواہاں ہیں۔ تمام ملکی ادارے اپنے آئینی حدود کی پاسداری کریں ، سیاسی حلقوں کی جانب سے عدلیہ پر کیچڑ اچھالنا کسی طور درست اقدام نہیں ہے ہم اس امر کی شدید مذمت کرتے ہیں ، ججز کے ساتھ ساتھ جرنیلوں کے احتساب کی بھی بات کرنا چاہئے ، جن کی بدولت یہ ملک ہمیشہ عدم استحکام کا شکار رہا۔
یہ بھی پڑھیے
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا 4 ہزار ارب روپے سے متعلق بڑا دعویٰ
نفرت پھیلانےکا الزام: لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب 3 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اور پروفیشنل گروپ کے سربراہ حامد خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر لاہور ہائی کورٹ بار کے نو منتخب صدر چودھری اشتیاق اے خاں ، ممبر پاکستان بار کونسل عابد ساقی ، نو منتخب نائب صدر ہائی کورٹ بار ربیعہ باجوہ ، سیکرٹری صباحت رضوی ، فنانس سیکرٹری شاہ رخ شہباز وڑائچ ، لاہور بار کے صدر رانا انتظار حسین ، سیکرٹری کفیل کھوکھر ، سابق صدور لاہور ہائی کورٹ بار میاں عبدالقدوس ، شفقت محمود چوہان ، رانا ضیاءعبدالرحمان ، پنجاب بار کونسل کے سابق چیئر مین ایگزیکٹو کمیٹی فاروق کھوکھر سمیت وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
Strong Msg by Member Pakistan Bar Council, Punjab Bar Council, Lahore Highcourt Bar, Lahore Bar and all Senior lawyers,
No one is Authorised to temper the Constitution of Pakistan, We Lawyers know how to protect the constitution.
Election must b in 90 dayspic.twitter.com/MKVW1HIBwm— Haider Majeed (@AdvHaiderMajeed) February 27, 2023
حامد خان نے کہا کہ وکلاء پاکستان میں آئین کی سر بلندی ، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے پیروکار ہیں ، نظر آرہا ہے کہ چند مخصوص سیاسی عناصر آئین کی خلاف ورزی کرنے پر تلے ہیں لیکن ہم ایسا ہر گز نہیں ہونے دیں گے ، کیونکہ ہم سب آئین کے بڑے سپاہی ہیں۔
حامد خان کا مزید کہنا تھا کہ قانون کی عمل داری میں آئین اور قانون کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن اگر آئین کیخلاف وزری ہو گی تو ملک پر اس کے اثرات منفی پڑ سکتے ہیں۔ جس انداز میں چند سیاسی جماعتوں کے لیڈران عدلیہ پر حملے کر رہے ہیں جوقابل افسوس امر ہے وکلاء برادری برداشت نہیں کرے گی ، ہم عدلیہ کے بھی محافظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بارکونسلز ، بار ایسوسی ایشنز کسی سیاسی جماعت کے آلہ کار نہیں ہو سکتے ، کسی سیاسی جماعت کو اختیار نہیں کہ وہ کسی بار کو ڈکٹیٹ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار کے صدر کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔
نومنتخب صدر چودھری اشتیاق اے خاں نے کہا کہ عدلیہ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سب قابل احترام ہیں جیسا کہ ججز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق پر عمل داری ، آئین کی حکمرانی اور قانون کی پاسدار پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا ۔
لاہور بار کے صدر رانا انتظار نے کہا کہ آزاد عدلیہ پر یقین رکھتے ہیں عدلیہ آزاد ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کالے کوٹ ترجیح ہے اس موقع پر عاصمہ جہانگیر گروپ کے ممبر پاکستان بار کونسل عابد ساقی نے کہا کہ ہم جب الیکشن لڑتے ہیں تو مخالف ہوتے ہیں جب جیت جاتے ہیں تو ہم ایک جسم کے مانند ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اصولوں کی بات پر کوئی جنگ نہیں انہوں نے کہا کہ ججوں کے احتساب کی بات کی جاتی ہے لیکن یہاں جرنلز کا نام کوئی نہیں لیتا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 75سال سے میوزیکل چیئر چل رہی ہے لیکن آج ضرورت اس امر کی ہے کہ منظم جدوجہد کی جائے۔
رانا انتظار نے مطالبہ کیا کہ جرنلز کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن 90 دنوں میں ہی ہونے چاہئے کسی کے پاس آئین کو تبدیل کرنے کا اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے۔









