حکومت کا قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی واپسی پر لیت و لعل، اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی
پیر کے روز پی ٹی آئی کے وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے گذشتہ روز ملاقات کی اور استعفے واپس لینے کی استدعا کی۔
اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے پاکستان تحریک انصاف اراکین قومی اسمبلی کی استعفے واپس لینے کی استدعا ، اسپیکر نے درخواست وصول کرلی ، راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ لیگل ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ ہو گا جبکہ دوسری جانب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جو مورخہ 28 فروری 2023 کو سہ پہر 4 بجے ہوتا تھا اسے مورخہ کرتے ہوئے 15 مارچ 2023 تک سہ پہر 4 بجے تک موخر کردیا ہے اور قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کےلیے ملتوی کردیا گیا ہے۔ یعنی نہ اجلاس ہوگا نہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اجلاس میں شرکت کرسکیں گے۔
پیر کے روز اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے سابق چیف وہپ پاکستان تحریک انصاف کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں پر مشتمل وفد نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پی ٹی آئی کے سابق ممبران قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے پی ٹی آئی کے منظور کیے گئے استعفوں کے اقدام کو واپس لینے کی استدعا کی۔ جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے استعفوں کی منظوری سے متعلق قانون و آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین، قانون اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے طریق کار 2007 کے تحت استعفے منظور کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
راجن پور کے ضمنی الیکشن میں زرتاج گل وزیر ہیروئن بن کر سامنے آگئیں
عمران خان قاتلانہ حملے کی جے آئی ٹی میں ردوبدل ، تحریک انصاف چیلنج کررہی ہے
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سابق ممبران قومی اسمبلی کو بار بار خطوط ارسال کیے گے اس کے باوجود پی ٹی آئی کا کوئی ممبر حاضر نہیں ہوا۔
انہوں نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سابق چیف وہپ عامر ڈوگر کی سربراہی میں آنے والے وفد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق اسپیکر اور ملک عامر ڈوگر وفد کی صورت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے استدعا کی کہ پی ٹی آئی کے ممبران قومی اسمبلی کے استعفے قبول کیے جائیں جس کے بعد استعفوں کی باضابطہ منظوری کا پراسز شروع کیا گیا۔
اسپیکر نے کہا کہ وہ آئین، قانون اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے پابند ہیں۔ پی ٹی آئی کے وفد نے استعفوں کی منظوری کے معاملے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی جس پر اسپیکر نے اس معاملے کو لیگل ٹیم سے ڈسکس کر کے انہیں مطلع کرنے کا کہا۔
اسپیکر نے ملک میں سیاسی عدم و استحکام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام مسائل کا حل گفت و شنید میں مضمر ہے،اس وقت ملک میں سیاسی استحکام اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو برداشت و تحمل کی روش کو اپنانے اور ملکر سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے، تمام ملکی مسائل ڈائلاگ سے ہی حل ہونگے، سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے، موجود حالات سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ بحیثیت مجموعی سیاستدان ملک کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی لڑائی کو ملک کے مفاد پر قربان کر دیں تو ملکی مسائل کا حل ممکن ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی امیدیں پارلیمنٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ عوام نے اپنے نمائندوں کو منتخب کر کہ پارلیمان میں بھیجا ہے اگر عوام کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیں گے تو ان کے حلقے کے عوام کے مسائل کیسے حل ہو نگے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پارلیمانی سیاست میں ماضی سے بہت کچھ سیکھا ہے پارلیمنٹ عوامی کی امنگوں کی ترجمان ادارہ ہے، پارلیمان سے باہر ملکی اور عوامی مسائل کا حل نہیں نکل سکتا۔









