کراچی میں مردم شماری عمل کا سرور ڈاؤن، انٹرنیٹ مسائل سے سست روی کا شکار

ٹوئٹر صارفین نے سندھ حکومت پر ڈیجیٹل مردم شماری کے دوران دھاندلی کے الزامات عائد کردیئے، ایک صارف نے مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے دور میں آنے والا انٹرنیٹ آج آپ کی حکومت میں نہیں چل رہا ہے

ملک بھر میں یکم مارچ سے ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز  تو ہوگیا ہے تاہم عملے کو بار بار سرور ڈاؤن جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ کئی جگہوں پر انٹر نیٹ کی عدم فراہمی کی شکایت بھی آرہی ہیں۔

یکم مارچ سے ملک میں شروع ہونے والی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے عملے کو بار بار سرور ڈاؤن جیسے مسائل کا سامنا ہے جبکہ کئی علاقوں میں انٹر نیٹ کی اسپیڈ اور عدم فراہمی کی شکایت بھی آرہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وفاقی ادارہ شماریات فنڈز کی کمی کا شکار، پہلی ڈیجیٹل مردم شماری خطرے سے دوچار

ٹوئٹر پر عدیل حسنین نامی ایک صارف نے ڈیجیٹل مردم شماری کے عملے سے گفتگو کی وڈیو شیئر کی جس میں عملے کی خواتین نے بتایا کہ مہیا کیے گئے” ڈیجیٹل ٹیب” میں سرور ڈاؤن کا مسئلہ آرہا ہے ۔

عدیل حسنین نامی صارف نے مردم شماری عملے سے گفتگو کرتے ہوئے پوچھا کہ سرور کتنے روز سے ڈاؤن چل رہا ہے جس پر خاتون اہلکار نے بتایا کہ گزشتہ 2 روز سے  "ایپ سرور ڈاؤن” ہے ۔

ٹوئٹر صارف نے مسلم لیگ نون کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "جن کے زمانے میں انٹر نیٹ آیا  تھا آج انہیں کے دور حکومت میں انٹر نیٹ نہیں چل رہا ہے ۔

عدیل حسنین نے کہا کہ سرور ڈاؤن جیسے مسائل سے مردم شماری کا عملہ پریشان ہے جوکہ سراسر پی ڈی ایم حکومت کی نااہلی ہے جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے دھاندلی کا منصوبہ جاری  ہے ۔

مردم شماری عملے کی ایک خاتون نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی ادارہ شماریات کی دیجیٹل سینسس ایپ کا ایک  سرور مسلسل ڈاؤن ہے جبکہ  دوسرے سرور سے ایپ لوگ اِن نہیں ہورہی  ہے ۔

عدیل حسنین نامی ٹوئٹر صارف نے بتایا کہ یہ کراچی کے علاقے احسن آباد کے مردم شماری کے دفتر کے اندر کے مناظر ہیں ، صارف نے کہا کہ سندھ حکومت دھاندلی میں مصروف ہے ۔

متعلقہ تحاریر