شہید ارشد شریف کی بیوہ نے عورت مارچ والوں کو آئینہ دکھادیا

عورت مارچ نے ہراسانی کا نشانہ بننے پر کبھی میرا ساتھ دیا نہ میرے شوہر کے قتل کی مذمت کی، پاکستان میں ایکٹوازم مخصوص کیوں ہوتا ہے؟ کیا یہ صرف دوستوں کیلیے ہے؟

شہید ارشدشریف کی بیوہ جویریہ صدیقی اپنے شوہر کے قتل کی مذمت نہ کرنے اور اپنے خلاف چلائی جانے والی گھناؤنی مہم پر آواز نہ اٹھانے پر عورت مارچ کے منتظمین پر برس پڑیں۔

خاتون صحافی نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں ایکٹوازم مخصوص کیوں ہوتا ہے؟ کیا یہ صرف دوستوں کیلیے ہے؟

یہ بھی پڑھیے

وزیراطلاعات پنجاب کی عورت مارچ کے انعقاد میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی یقین دہانی

شاندانہ گلزار نے عورت مارچ کو عورتوں کیلیے باعث شرمندگی قرار دیدیا

جویریہ صدیقی نے اپنے ٹوئٹ میں عورت مارچ کو مخاطب کرتے ہوئے  لکھاکہ فروری 2023 میں جب میں آن لائن ہراسانی کا شکار ہوئی تو آپ نے کبھی میرا ساتھ نہیں دیا اور  میرے صحافی شوہر ارشد کے لیے کبھی آواز نہیں اٹھائی جو 23 اکتوبر 2022 کو کینیا میں مارے گئے تھے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں ایکٹوازم مخصوص کیوں ہے!! کیا یہ صرف دوستوں کے لیے ہے؟

جویریہ صدیقی نے مزید لکھا کہ  خیر   جو بھی یہ ایکٹوازم اپنے دوست احباب کے لئے کررہے ہیں انکو مارچ کی اجازت ہونی چاہیے ،انکا انقلاب صرف مارچ میں جاگتا ہے پھر واپس جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔

متعلقہ تحاریر