سول و عسکری قیادت نے پی ٹی آئی کو شرپسندوں کے گروہ سے تشبیہ دیدی
وزیراعظم کی زیرصدارت 6 گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاسوں میں حکومتی اتحاد کی نمائندہ شخصیات،آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی شرکت،تمام اسمبلیوں میں ایک ساتھ الیکشن کے انعقاد پر اتفاق، حکومت کی رٹ یقینی بنانے کیلیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب

ملک کی سول و عسکری قیادت نے طویل اجلاسوں میں پاکستان تحریک انصاف کی جاری احتجاجی تحریک کے بارے میں انتہائی ناپسندیدہ نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کو”سیاسی جماعت کے بجائے کالعدم تنظیموں سے تربیت یافتہ شرپسندوں کا گروہ“ قرار دے دیا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا عزم کیا۔
اجلاس نے عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں پیشی کے موقع پراحتجاج میں حصہ لینے والے رہنماؤں اور کارکنوں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیاگیا۔ جنہوں نے پولیس اہلکاروں کو وحشیانہ طریقے سے مارا، سرکاری گاڑیوں کونذرآتش کیا، پولیس پر پٹرول بموں سے حملے کیے اور بدامنی پیدا کی۔
یہ بھی پڑھیے
حکمران اتحاد نے عمران خان کے طرزسیاست کو ملک کیلئے نقصان دہ قرار دے دیا
صدیق جان گرفتار: کیا مریم نواز کی کوششیں بار آور ثابت ہو گئیں؟
انگریزی روزنامہ ڈان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرصدارت پہلے اجلاس میں وزرا اور حکمران اتحادی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی اوریہ جلاس تقریباً 5گھنٹے جاری رہا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کی رات میڈیا کو بتایا کہ دوسری ملاقات، ایک گھنٹہ جاری رہی جس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے بھی شرکت کی۔
اجلاسوں کے بعد جاری ہونے والےاعلامیے کے مطابق دونوں اجلاسوں نے پرتشدد مظاہروں اور سرکاری اور نجی املاک کی توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہونے چاہئیں۔
اجلاس میں مسلح افواج اور عدلیہ سمیت ریاستی اداروں کو بدنام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ”اجلاس میں عدالتی احکامات کی تعمیل کرانے والی پولیس اور رینجرز پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور اسے ریاست کے خلاف دشمنی قرار دیا گیا“۔
اعلامیے کے مطابق ”تمام شواہد اور ثبوت دستیاب ہیں، جن کے تحت بدامنی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی“۔اجلاس میں”سوشل میڈیا پر فوج اور آرمی چیف کے خلاف مکرہ مہم“ کی مذمت کی گئی اور لوگوں پر زور دیا گیا کہ وہ اس کا حصہ نہ بنیں۔ اجلاس کے شرکا نے اتفاق کیا کہ عمران خان اور ان کے حواریوں کے ساتھ ”خصوصی برتاؤ“سے انصاف کے پلڑے برابر نہ ہونے کا تاثر مزید گہرا ہورہا ہے، انصاف کے دہرے معیار کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
شرکاء نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ طارق رحیم کی حالیہ آڈیو ٹیپ پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے بارے میں قابل اعتراض ریمارکس کی مذمت کی۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت کے طور پر کام کرنے کے بجائے کالعدم جماعتوں کے تربیت یافتہ عسکریت پسندوں کے گروہ سے مشابہت رکھتی ہے ۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ اس کے کارکنوں کی طرف سے سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بدھ 22مارچ کو ہوگا اور آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی مزید گرفتاریاں ہوں گی۔ بعد ازاں رات گئے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 22 مارچ کو طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
دریں اثنا گزشتہ رات ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہاکہ سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں ر پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کی تحلیل کے 90 دن کے اند انتخابات کرانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر کافی پریشان ہیں اور انہوں نے مرکز اور صوبوں میں تمام انتخابات ایک ہی وقت میں کرانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے تحفظات کے پیش نظر اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات الگ الگ نہیں ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں، ۔
انہوں نے کہا کہ اگر اب پنجاب میں انتخابات ہوتے ہیں تو نئی صوبائی حکومت کا قومی اسمبلی کے انتخابات پر اثر پڑے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب میں انتخابات پچھلی مردم شماری کے تحت ہوں گے جبکہ نئی مردم شماری اگلے چار ماہ میں مکمل ہو جائے گی اور ملک میں عام انتخابات تازہ مردم شماری کے مطابق کرائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد سے متعلق حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کرے گا۔
سپریم کورٹ نے ایک حالیہ فیصلے میں پنجاب کی نگراں حکومت کو صوبے میں 30 اپریل کو انتخابات کرانے کی ہدایت کی تھی۔احسن اقبال نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ جلد بازی میں لیا ہے کیونکہ موجودہ حالات انتخابات کے قبل از وقت انعقاد کی اجازت نہیں دیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سپریم کورٹ کی ذمہ داری تھی کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ صادر کرے۔
دریں اثنا پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ اجلاس کے تمام شرکا کی متفقہ رائے تھی کہ تمام صوبوں اور مرکز میں ایک ساتھ انتخابات کاانعقاد ملک کے بہترین مفادمیں ہے ، اگر اب پنجاب اور کے پی میں انتخابات ہوئے تو اس سے مزید مسائل اور تنازعات پیدا ہوں گے۔
قمر زمان کائرہ نےکہاکہ تمام سیاسی قوتوں کو مذاکرات کا آپشن نہیں چھوڑنا چاہیے اور اگر عمران خان نے کوئی اشارہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں تو ان کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعطل سے نکلنے کا کوئی درمیانی راستہ ہونا چاہیے۔









