بائیں بازو نے انتخابات کے التوا کو سیاسی و معاشی استحکام کیلیے بدترین قرار دیدیا

اگر الیکشن کمیشن موجودہ حکومت کے وزیر خزانہ اور آئی جی کی فنڈنگ ​​کی کمی اور امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ کو تسلیم کر لے تو پاکستان میں مستقبل قریب میں انتخابات نہیں ہوں گے، اسد علی شاہ، شجاع نواز، عارفہ نور، مشرف زیدی، عنبر رحیم شمسی، عمار علی جان و دیگر کی فیصؒے پر کڑی تنقید

بائیں بازو کے نظریات سے وابستہ سرکردہ شخصیات الیکشن کمیشن کے پنجاب میں انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو اسٹیبلشمنٹ اور پی ڈی ایم حکومت کی بزدلی سے تعبیر کرتے ہوئے سیاسی استحکام اور معیشت کیلیے بدترین قرار دے دیا۔

بائیں بازو کے نظریات سے تعلق رکھنے والے شجاع نواز، عارفہ نور،مشرف زیدی،عنبر رحیم شمسی،ڈاکٹر علی حسنین، عمار علی جان،شہرام اظہر اور اسد علی شاہ نے  کہا ہےکہ اگر الیکشن کمیشن موجودہ حکومت کے وزیر خزانہ اور آئی جی کی فنڈنگ ​​کی کمی اور امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ کو تسلیم کر لے تو پاکستان میں مستقبل قریب میں انتخابات نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ن لیگ اتحادیوں کی بھر پور مخالفت کے باجود پی ٹی آئی پر پابندی لگانے پر بضد

سپریم کورٹ بار اور لاہور ہائیکورٹ بار نے پنجاب میں الیکشن کا التوا مسترد کردیا

اٹلانٹک کونسل کے پاکستان انیشیٹو نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر رائے جاننے کیلیے معاہرین سے رابطہ کیا تو شجاع نواز نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے  پیچیدہ  فیصلے نے موجودہ سیٹ اپ کو اپنی پوری مدت پوری کر کے خود کو ثابت کرنے کا موقع فراہم کرنے میں ایک بار پھر فوج کے چھپے ہاتھ کو دھوکہ دیا۔

عارفہ نور نے کہا کہ پہلے ہی ملک غیر یقینی صورتحال، درآمدات پر پابندی، ادائیگیوں کے توازن کے بحران اور آئی ایم ایف کے معاہدے میں تاخیر کے بعد  یہ نیا دھچکا پاکستان کا مزید خون بہائے گا۔

مشرف زیدی  ے کہاکہ پنجاب الیکشن میں تاخیر بحران کی شدت کو مزید گہرا کر دے گی اور دونوں سیاسی اداکاروں اور ملک کے اہم اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دے گی۔

عنبر رحیم شمسی نے کہا کہ اگر آئین رنگ بھرنے والی کتاب کا بالغ نسخہ ہے تو پھر تمام بالغان لکیروں سے باہر رنگ بھر رہے ہیں۔

ڈاکٹر علی حسنین نے کہاکہ بروقت انتخابات اور آئینی اصولوں کی پاسداری نہ صرف اخلاقی طور پر ناگزیر ہے بلکہ یہ ملک کی وسط مدتی عملداری کے لیے بہت اہم بن چکے ہیں۔

عمار علی جان نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ شکست کے خوف سے الیکشن ملتوی کرنا حکومت اوراسٹیبلشمنٹ کا صریح غیر آئینی اور بزدلانہ  شرمناک ہے۔

شہرام اظہر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ”پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے انتخابات کے التوا کے فیصلے سے بدتر کوئی چیز نہیں ہے،تحریک عدم اعتماد کے بعد  اقتدار سے چمٹے رہنے پی ڈی ایم حکومکا کا فیصلہ کافی برا تھا،یہ سراسر آئین سے غدار ی ہے، آپ کسی بحران  میں اضافہ کرکے اسے حل نہیں کرسکتے۔

سابق وزیراعلیٰ سندھ کے فرزند اسد علی شاہ نے کہاکہ اگر الیکشن کمیشن موجودہ حکومت کے ایف ایم اور آئی جی کی فنڈنگ ​​کی کمی اور امن و امان کی خراب صورتحال کو تسلیم کر لے تو مستقبل قریب میں انتخابات نہیں ہوں گے۔ پہلا امکان تو یہ ہے کہ حالات مسلسل خراب رہ سکتے ہیں ، جیسا کہ  اس ملک میں عام طور پر حالات خراب رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ دوئم یہ ہے کہ حالات موجودہ حکومت کی ناقص کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ آپ خراب کارکردگی والی حکومت کو انتخابات کے بغیر غیر معینہ مدت تک جاری رہنے دیتے ہیں۔ تیسرا، یہ کہ حکومت کو جان بوجھ کر ایسے حالات کو مزید خراب کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

 دریں اثنا انگریزی اخبار ڈان نے بھی اپنے اداریے میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اخبار نے سکندر سلطان راجہ کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے اسے جمہوری عمل معطل کرنے کے مترادف  قرار دیا ہے۔

اخبار نے کہاہے کہ   سکندر سلطان راجہ  نے  اپنے آئینی عہدے کو ان عناصر کے حوالے کر دیا ہے کہ  جو واضح طور پر ملک میں جمہوری عمل کو معطل دیکھنا چاہتے تھے۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھاکہ چیف الیکشن کمشنر اعلیٰ معیار کے طرز عمل کے پابند رہیں گے۔ انہیں اس بات پر سب سے زیادہ مایوسی ہوئی ہوگی کہ چیف الیکشن کمشنر بظاہر آئین کو پامال کرنے کے ایک  غلط منصوبے کا حصہ بن گئے ہیں۔

سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور حکومتی دباؤ  میں   انتخابات کو ملتوی  کرکے سکندر سلطان راجہ نے اپنی میراث کو نقصان پہنچایا ہے ۔ اخبار کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے حالیہ مہینوں میں اپنے  سب سے بڑے فیصلےکے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے بعد پنجاب میں انتخابات کو ملتوی کرکے انہوں نے الیکشن کمیشن کی آزادانہ اور منصفانہ ماحول میں کوئی بھی الیکشن کرا نےکی اہلیت پرحقیقی خدشات اٹھادیے ہیں۔

متعلقہ تحاریر