آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے غلیظ زبان کے استعمال پر جے یو آئی کو تنقید کا سامنا

جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری نے تحریک انصاف کے مرد کارکنوں کو یوتھیا اور خواتین کو تتلی قرار دیدیا، مبشر زیدی نے بدزنابی کو مذہنی جماعتوں کو ووٹ نہ ملنے کا ذمے دار قرار دیدیا، اقرار الحسن نے بھی ٹوئٹ کو شرمناک کہہ دیا

آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے پاکستان تحریک انصاف کارکنوں کے حوالے سے غلیظ زبان کے استعمال پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کوشدید تنقید کاسا منا ہے۔

لاہور جلسے پر کیے گئے تبصرے میں  جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان اسلم غوری نے  تحریک انصاف کے مردو وخواتین کارکنوں کو نازیبا القابات سے مخاطب کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کے بھانجے حسان نیازی پر کراچی میں بغاوت کا مقدمہ درج

ت سیاست سے آگے چلی گئی ہے اب یا ہم رہیں گے یا عمران خان، رانا ثناء اللہ کی دھمکی

اسلم غوری نے جے یو آئی  کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر جاری کردہ بیان میں لکھاکہ”عمران نیازی کا لاہور جلسہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا کا مصداق ثابت ہوا ۔ چند سو یوتھیے اور تتلیاں لاہور جیسے بڑے شہر میں اس سے بڑی کوئی شکست نہیں ۔ اہلیان لاہور نے نیازی بیانیے کو مسترد کردیا ۔ عمران کے خطاب سے اسکی شکست اور خوف عیاں تھا“۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ”عمران نیازی کا جھوٹا بیانیہ مزید نہیں چلے گا ۔ عمران پروجیکٹ کو تیار کرنے والے بھی اس کو دوبارہ مسلط نہیں کر سکتے۔ اس پروجیکٹ کو ناکامی سے بچانے کیلئے پوری دنیا میں پاکستان اور اسلام دشمن لابیاں مصروف عمل ہیں“۔

انہوں نے کہا کہ”پاکستانی عوام جاگ چکی ہے اب کوئی اسکے جھانسے میں نہیں آئیگا۔ عمران نیازی کے دامن میں جھوٹ ،فراڈ اور الزام تراشیوں کے سوا کچھ نہیں ۔ عمران نیازی کے صبح شام بدلتے بیانیے اس پروجیکٹ کی ناکامی کی نوید دے رہے ہیں“۔

سینئر صحافی مبشر زیدی نے غلیظ زبان کے  استعمال کو مذہبی جماعتوں کو ووٹ  نہ ملنے کی وجہ قرار دیدیا۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ”ان نام نہاد مذہبی جماعتوں کو اسی لئے پڑھے لکھے افراد ووٹ نہیں ڈالتے“۔

اینکرپرسن اقرار الحسن نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ” قابلِ شرم ٹوئٹ۔ افسوس ہے کہ یہ ہماری ایک مذہبی جماعت کا آفیشل اور ویریفائیڈ اکاؤنٹ ہے“۔

متعلقہ تحاریر