سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ سوموٹو پر وہ چاہتا ہے جو ممکن نہیں

دو ایک سے آنے والے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین اور قانون نے چیف جسٹس کو خصوصی بینچ تشکیل دینے کی اجازت نہیں دی، آرٹیکل 184 (3) کے تحت دائر درخواستوں کے حوالے سے قواعد موجود ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے تمام ازخود نوٹس کیسز کی سماعت ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ حافظ قرآن کو اضافی 20 نمبر دینے سے متعلق کیس میں 2-1 کی اکثریت سے فیصلہ جاری کیا۔ سوال یہ اگر فیصلے کو مانا جائے گا تو 2021 کے 5 رکنی بینچ کے فیصلے کا کیا بنے؟ کیونکہ اقلیتی فیصلہ اکثریت پر غالب نہیں آسکتا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس شاہد وحید نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس ڈگری میں داخلہ کے دوران حافظ قرآن کو اضافی 20 نمبر دینے سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں 2-1 کے  اکثریتی فیصلہ سے جاری کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے 

آزاد عدلیہ کیلئے تحریک چلانی پڑی تو چلاٸی جاٸے گی، آل پاکستان وکلا کنونشن

ملک میں پانی کی شدید قلت؛ ارسا کا اہم ترین اجلاس کل ہوگا

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین اور قانون نے چیف جسٹس کو خصوصی بینچ تشکیل دینے کی اجازت نہیں دی، آرٹیکل 184 (3) کے تحت دائر درخواستوں کے حوالے سے قواعد موجود ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سوموٹو کیسز کے لیے بنچوں کی تشکیل کے کوئی اصول نہیں ہیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام اہم آئینی اور سوموٹو کیسز کو ملتوی کیا جائے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کو اختیار ہے کہ وہ مذکورہ معاملات میں قواعد و ضوابط بنائے۔ سپریم کورٹ چیف جسٹس اور تمام ججز پر مشتمل ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئین چیف جسٹس کو مذکورہ بالا صورتحال میں یکطرفہ فیصلہ کرنے کا صوابدیدی اختیار نہیں دیتا۔ احترام کے ساتھ چیف جسٹس اپنی ذاتی دانشمندی کو آئین سے بدل نہیں سکتے۔

آئین کی روح سے "شہریوں کے مفاد میں اس کیس اور آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دیگر تمام مقدمات کی سماعت کو ملتوی کرنے کا یہ بہترین وقت ہے۔

فیصلے کے مطابق اس وقت جتنے بھی سوموٹو کیسز چل رہے انہیں روک دیا جائے، اور سوموٹو کے حوالے سے نئے رولز آف لا ترتیب دیئے جائیں۔

تین رکنی بینچ نے جو فیصلہ دیا وہ دو ایک سے تھا۔ فیصلہ کے حق میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین نے اپنا اپنا ووٹ دیا جب کہ فیصلے کی مخالفت جسٹس شاہد وحید نے کی۔

یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ٹھیک ایک سال پہلے اپنے ایک انٹرویو کے دوران اپنے مذکورہ بالا فیصلے کی خود نفی کی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاملہ یہ ہے کہ یہ تین رکنی بینچ کا فیصلہ ہے اور بھی دو ایک سے ہے۔ دوسری جانب 2021 میں ایک فیصلہ آیا تھا جس میں 5 رکنی بینچ نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا تھا کہ صرف اور صرف چیف جسٹس کا اختیار ہے کہ سپریم کورٹ کے اندر بینچز ترتیب دے ، اور سوموٹو ایکشن لے ، جو آج تک اوور رول نہیں ہوا ، اب تین رکنی بینچ کے فیصلہ کا واویلا تو بہت ہورہا ہے ، لیکن تین رکنی بینچ کا فیصلہ 5 رکنی بینچ کے فیصلے کو اوور رول نہیں کرسکتا ، 2021 کا فیصلہ اسی صورت میں ختم ہوگا جب اس سے بڑا کوئی بینچ فیصلہ دے گا۔ اس لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ ضرور سر آنکھوں پر لیکن 2021 کا اکثریت فیصلہ برقرار رہے گا۔ یاد رہے کہ اس وقت چیف جسٹس گلزار احمد تھے عمر عطا بندیال نہیں تھے۔

متعلقہ تحاریر