غریدہ فاروقی اور وقار ستی کو عدالت کے اندر کی ملتی جلتی خبریں کون فیڈ کررہا ہے؟

خاتون اینکر اور رپورٹر نے گزشتہ شام تقریباً ایک ہی وقت میں کیے گئے ٹوئٹس میں چیف جسٹس سپریم کورٹ پر فل کورٹ بینچ بنانے یا مستعفی ہونے سے متعلق شدید دباؤ کا تذکرہ کیا تھا، کئی صارفین دونوں شخصیات سے ایسی خبریں دینے والوں کے بارے میں پوچھ لیا

سینئر اینکر پرسن غریدہ فاروقی اور اسلام آباد کے سینئر رپورٹر وقار ستی کو سپریم کورٹ کے اندر کی ایک جیسی خبریں کون فیڈ کررہا ہے؟

دونوں صحافیوں نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں جاری اندرونی محاذ آرائی کے حوالے سے بالکل ایک جیسے ٹوئٹس کرکے سوشل میڈیا صارفین کو حیران کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

جسٹس مندوخیل کا انکار: پنجاب،کے پی کے الیکشن التوا کیس سننے والا بینچ پھر ٹوٹ گیا

سپریم کورٹ: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ 5رکنی عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار

جیو نیوز سے وابستہ سینئر رپورٹر وقار ستی نے گزشتہ شام 5بجکر48منٹ پر ایک ٹوئٹ کیا جس میں انہوں نے لکھاکہ” اہم ترین !!! اطلاعات ہیں کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ دیگرمعزز ججز کی طرف سےفل بینچ بنانےیا مستعفی ہونےکےلیےشدید دباؤمیں ہیں لیکن وہ اپنے تین ساتھیوں (جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر) کی وجہ سے کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کر پارہے ۔ جو انتہائی افسوسناک امر ہےکیونکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا,آگے کیا ہو سکتا ہے؟“۔

کچھ ہی دیر بعد نیوز ون کے پروگرام جی فور غریدہ کی میزبان غریدہ فاروقی نے 5بجکر 56منٹ پر وقار ستی سے ملتا جلتا ٹوئٹ کیاجس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ” انتہائی حسّاس معلومات؛ ذرائع کیمطابق چیف جسٹس پاکستان پر سپریم کورٹ کے اندر سے شدید دباؤ ہے کہ پنجاب/کے پی کے الیکشن کیس پر یا تو فُل بینچ تشکیل دیا جائے یا استعفیٰ دے دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے بھی چیف جسٹس کو یہی آپشنز کا واضح پیغام پہنچایا ہے“۔

غریدہ فاروقی نے مزیدلکھا کہ”ذرائع کے مطابق فی الحال اس بات کی مخالفت سامنے آ رہی ہے، ایک مخصوص سیاسی جماعت اس کا فائدہ اٹھا سکتی ہے؛ چند مخصوص شخصیات کو اس کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ واللّہ اعلم بالصواب ۔۔۔ بہرحال معاملات گھمبیر ہیں، ٹکراؤ بڑھ سکتا ہے؛ دیکھیے پہلے کون جھپکتا ہے“۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عدلیہ کی اندرونی سرگرمیوں سے متعلق انتہائی حساس معلومات کون ن لیگ کے قریب سمجھے جانے والے صحافیوں تک پہنچارہا ہے۔ کئی صارفین نے غریدہ فارقی اور وقار ستی کے ٹوئٹس پر بھی یہی سوال اٹھایا ہے۔

متعلقہ تحاریر