پنجاب اور کےپی انتخابات: کیا چیف جسٹس تمام تر دباؤ کے باوجود تاریخ رقم کرپائیں گے؟

مریم نواز کے سرگودھا جلسے کے بعد سے حکومتی عہدیداران عدلیہ اور چیف جسٹس آف پاکستان کو مسلسل دباؤ میں لینے کی کوشش کررہے ہیں ، مگر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹس سے مس نہیں ہورہے۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا کے انتخابات میں تاخیر کے خلاف سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حکومت درخواست کو مسترد کرتے ہوئے فل کورٹ بنانے سے قطعی انکار کردیا ہے ، اگر سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تمام دباؤ برداست کرتے ہوئے فیصلہ پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواستوں پر کردیا تو تاریخ رقم ہو جائے گی اور مریم نواز سے شروع ہونے والی عدلیہ مخالف مہم دم توڑ جائے گی۔

22 فروری کو سرگودھا میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگ کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز حاضر سروس ججز اور سابق عسکری قیادت پر نہ صرف الفاظی حملے کیے بلکہ کنونشن میں ججز اور عسکری قیادت کی تصاویر چلا دیں۔ مریم نواز نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پانچ کا ٹولہ آج کے حالات کا ذمہ دار ہے ، بینچ فکسنگ ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

عمران خان نااہلی کیس: وکیل سلمان اکرم راجہ نے ڈی این اے کی مخالفت کردی

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور

مریم نواز کے سرگودھا جلسے کے بعد سے حکومتی عہدیداران عدلیہ اور چیف جسٹس آف پاکستان کو مسلسل دباؤ میں لینے کی کوشش کررہے ہیں ، مگر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹس سے مس نہیں ہورہے۔

جہاں حکومتی عہدیدار چیف جسٹس عمر عطا بندیال پر تنقید کررہے ہیں تو دوسری طرف پیسے کے زور پر خریدے گئے میڈیا چینلز عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

حکومتی حلقے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ایسا قانون بنایا جائے جس سے چیف جسٹس بینچ تشکیل دینے کے اپنے صوابدیدی اختیار سے محروم ہوجائیں۔

دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے خلاف خود عدالت کے اندر محاذ گرم کردیا گیا ہے کہ کبھی قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے 2021 کے لارجر بینچ کے فیصلے کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ، کبھی یحیٰ آفریدی ، کبھی منصور علی شاہ ، کبھی جمال خان مندوخیل ، کبھی اطہر من اللہ ان کے خلاف جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ یعنی ہر طرف سے انہیں زچ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

آخری حد یہ ہوگئی ہے کہ پارلیمان میں ان کے خلاف قانون بنا دیا گیا کہ سپریم کورٹ میں "ون مین شو” کسی صورت قبول نہیں کیا جائےگا۔

قومی اسمبلی نے بدھ کے روز یعنی 29 مارچ کو سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 کو ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا تھا جیسا کہ قائمہ کمیٹی نے رپورٹ کیا تھا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ قانون سازی آئین پاکستان کے عین مطابق ہے ، اس قانون نے سپریم کورٹ کی پاور میں نہ کمی اور نہ ہی اضافہ کیا۔ سپریم کورٹ میں مداخلت تب ہوتی ہے جب ہم کسی اجنبی کو اختیار میں شامل کرتے ہیں۔ اس قانون سازی سے ون مین شو کا اختتام ہوگا ، پارلیمان کو وہ قانون سازی کرنی ہے جو عوام کے مفاد ہے۔

اسی طرح جمعرات 30 اپریل کو قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 منظور کرلیا۔ ایوان بالا میں بل کے حق میں 60 جبکہ مخالفت میں 19 ووٹ آئے ہیں۔

ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا، دوران اجلاس وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل ایوان میں پیش کیا۔

متعلقہ تحاریر