جسٹس قاضی فائز عیسی کا رجسٹرار سپریم کورٹ کو فوری عہدہ چھوڑنے کا مشورہ

رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام لکھے گئے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ رجسٹرار اپنا سرکلر جلد از جلد واپس لیں، آپ کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ رجسٹرار آفس میں رہنے کے قابل نہیں۔

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فوری طور پر رجسٹرار آفس کو عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دے دیا، کہتے ہیں رجسٹرار آفس کے پاس جوڈیشل آرڈر کالعدم قرار دینے کا کوٸی اختیار نہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فاٸز عیسی نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام خط لکھ دیا ہے۔ خط میں قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو اچھی خاصی جھاڑ پلائی ہے۔

رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ رجسٹرار آفس کے پاس جوڈیشل آرڈر کالعدم قرار دینے کا کوٸی اختیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیے 

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ اظہر مشوانی بازیابی کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں پیش

پنجاب اور خیبر پختونخوا انتخابات التوا کیس، فیصلہ محفوط، کل سنایا جائےگا

خط کے متن میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان بھی جوڈیشل آرڈر کیخلاف کوٸی انتظامی آرڈر جاری نہیں کر سکتے۔

جسٹس قاضی فاٸز عیسی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ رجسٹرار کا 31 مارچ کا سرکلر سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے ، آپ کو سینئر افسر کے طور پر اپنی آٸینی ذمہ داری کا ادراک ہونا چاہیے۔

قاضی فاٸز عیسی نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ سپریم کورٹ اور آپکے مفاد میں یہی ہے کہ 31 مارچ کا سرکلر واپس لیا جائے۔

خط کے متن میں مزید لکھا گیا ہے کہ رجسٹرار اپنا سرکلر جلد از جلد واپس لیں، آپ کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ رجسٹرار آفس میں رہنے کے قابل نہیں۔

خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

آئین کے آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے تحت عدلیہ اور انتظامیہ مکمل طور پر الگ الگ ہیں۔ ہر شہری کی طرح آپ پر بھی آئین کا نفاذ ہوتا ہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ بیوروکریٹ کا آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے تحت رجسٹرار آفس میں رہنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

متعلقہ تحاریر