سپریم کورٹ کے لارجز بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ازخود نوٹس کیس 20 منٹ میں خارج کردیا
سپریم کورٹ نے جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ازخود نوٹس کیس کی بنیاد پر سماعت شروع کی تو پی ایم ڈی سی کے وکیل نے بتایا کہ ہم نے پہلے ہی دن بتا دیا تھا کہ یہ ازخود نوٹس غیرموثر ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے چھ رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ازخود نوٹس کیس کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے حکم پر بنائے گئے 6 رکنی بینچ نے حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس منیب اختر ، جسٹس مظاہر علی نقوی ، جسٹس محمد علی مظہر ، جسٹس عائشہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کے چھ رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ازخود نوٹس کیس کو ختم کردیا ہے۔ یہ حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے سے متعلق کیس تھا۔
یہ بھی پڑھیے
سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف مسلم لیگ ن کے کارکنان کا ریڈ زون میں احتجاج
عالمی شہرت یافتہ ماہر تعلیم ڈاکٹر عادل نجم ڈبلیو ڈبلیو ایف انٹرنیشنل کے نئے صدر نامزد
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں حافظ قرآن کو 20 نمبر دینے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت تین رکنی بینچ نے کی تھی۔ جس میں ایک جج نے اختلافی نوٹ لکھا تھا۔
چھ رکنی بینچ نے پی ایم ڈی سی کے وکیل کو مختصراً سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ، جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا اس کیس کے جو دیگر ایکسپیکٹس ہیں ہم اس سے متعلق بھی فیصلہ جاری کریں گے۔ یعنی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو ایک سے جو فیصلہ دیا گیا تھا ، اس معاملے پر بھی فیصلہ محفوظ ہو گیا ہے۔
کیس یہ تھا کہ کیا میڈیکل کے حافظ قرآن طلباء کو 20 اضافی نمبر دیئے جاسکتے ہیں ، اگر دیئےجاتے ہیں تو کیوں دیئے جاتے ہیں ، اگر 2018 سے پہلے دیئے جاتے تھے تو کیوں دیئے جاتے تھے۔ اس پر ازخود نوٹس لیا تھا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے۔
اس کیس میں نئی ڈویلپمنٹ اس وقت ہوئی تھیں جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت ازخود نوٹس کیسز یا پھر سپریم کورٹ میں براہ راست درخواستیں دائر کی جاتی ہیں ، ان کو نہ سنا جائے۔ کیونکہ ازخود نوٹس کیسز میں پہلے قوانین تبدیل ہونے چاہیے۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 29 مارچ کو بڑا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا۔
گذشتہ روز رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے سرکلر جاری کرکے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔
اس سرکلر کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف خط لکھا تھا ، جس کی ایک کاپی حکومت کو ارسال کی گئی تھی ، اور اس کی روشنی میں وفاقی حکومت نے رجسٹرار سپریم کو عہدے ہٹانے کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا تھا۔
عدالت نے سوموٹو کیس نمبر 4/22 کی آج جب سماعت شروع کی تو سوال اٹھایا گیا کہ حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر کیوں دیئے جاتے ہیں۔
آج جب سماعت ہوئی تو پی ایم ڈی سی کے وکیل عدنان کریم کنڈی نے عدالت کو بتایا کہ جب حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر لینے سے متعلق ازخود نوٹس لیا گیا تھا اس وقت بھی ایسی کوئی بات نہیں تھی، کہ حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر نہیں دیئے جاتے تھے۔
وکیل عدنان کریم کنڈی نے عدالت کو بتایا کہ سال 2018 سے پہلے میڈیکل کے حافظ قرآن طلباء کو 20 اضافی نمبر دیئے جاتے تھے۔ جب پی ایم ڈی سی کو ختم کرکے پی ایم سی بنایا گیا تو اس سہولت کو بھی ختم کردیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ازخود نوٹس کیس کی بنیاد پر سماعت شروع کی تو پی ایم ڈی سی کے وکیل نے بتایا کہ ہم نے پہلے ہی دن بتا دیا تھا کہ یہ ازخود نوٹس غیرموثر ہے۔
اس پر جسٹس منیب اختر نےریمارکس دیئے کہ ایک غیر موثر چیز کے اوپر ازخود نوٹس ، اور اس پر اتنی بڑی بڑی ڈویلپمنٹ حیران کن ہیں۔ تاہم ہم اس ازخود نوٹس کیس کو ختم کرتے ہیں ، لیکن اس ازخود نوٹس کیسز کے ساتھ ساتھ جو ڈویلپمنٹ ہوئی تھیں اس پر مناسب فیصلہ جاری کریں گے۔









