ہر مسلمان عورت کو پاکیزہ تصور کیا جانا چاہیے، وفاقی شریعت عدالت
الاحسان کا اسلامی تصور مسلمان مردوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بغیر ثبوت کے کسی عورت کے کردار پر سوال اٹھانے سے گریز کریں،چکوال کی سائرہ رؤف کی درخواست پر فیصلہ سنادیاگیا

وفاقی شریعت عدالت نے قرار دیا کہ ہر مسلمان عورت کو پاکیزہ تصور کیا جانا چاہیے ،الاحسان کا اسلامی تصور مسلمان مردوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بغیر ثبوت کے کسی عورت کے کردار پر سوال اٹھانے سے گریز کریں۔
عدالت نے منگل کو سنائے گئے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ عفت ایک ایسی خوبی ہے جو کسی خالص، باحیا یا کنورے شخص کے پاس ہوتی ہے۔ کنوارپن عفت کی ایک مثال ہے جبکہ وفادار شادی شدہ جوڑے بھی عفت کی مثال ہیں ۔
یہ بھی پڑھیے
سندھ کا کم سن شادیوں کی روک تھام کا قانون غیر اسلامی نہیں، وفاقی شریعت عدالت
سود کیخلاف تاریخی فیصلہ دینے والے سابق چیف جسٹس شریعت عدالت خاران میں شہید
چکوال کی رہائشی سائرہ رؤف نے اپنے شوہر کی جانب سے دائر مقدمے میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے فیصلے کیخلاف وفاقی شریعت عدالت میں درخواست دائر کی تھی ۔وفاقی شریعت عدالت نےفیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ ”عفت کا تصور الاحسان کے تصور کے تحت ہر مسلمان عورت پر لاگو ہوتا ہے“۔”
سائرہ رؤف کے مطابق اسد طاہر کے ساتھ ان کی شادی 2017 میں خلع کے ذریعے ختم ہو گئی تھی۔ خلع کےبعد چکوال کے ایک گارڈین جج کے سامنے ان کے 16 اور 12 سال عمر کے دو بیٹوں کی تحویل پر قانونی چارہ جوئی کا آغاز ہوا۔
اسد طاہر نے جج کے سامنے بیان حلفی جمع کرواتے ہوئے اپنی سابقہ اہلیہ کی عفت سے متعلق الزامات لگائے۔درخواست گزار سائرہ رؤف نے سیشن جج چکوال کے سامنے قذف آرڈیننس 1979 کے سیکشن 8 کے تحت فوجداری شکایت درج کرائی، لیکن عدالت نے شکایت کنندہ اور دیگر دو گواہوں کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اسے مسترد کر دیا۔
بعد ازاں درخواست گزار کے سابق شوہر نے عدالت کے سامنے معافی مانگ لی اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس نے تناؤ کی وجہ سے نازیبا الفاظ کہے تھے۔
شریعت کورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس کو ٹرائل کورٹ کے حوالے کرتے ہوئے 90 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ٹرائل کورٹ کو قذف آرڈیننس کے سیکشن 6 کے مطابق دو گواہوں کے شواہد کے ساتھ شکایت کنندہ کے بیانات ریکارڈ کرنے کو بھی کہا گیا تھا۔
وفاقی شریعت عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ آیا قابل دست اندازی قذف کے جرم کا ارتکاب ہوا ہے یا نہیں۔









