قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کیخلاف قرارداد منظور کرکے آئین شکنی کرڈالی
سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی جج کے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں پارلیمنٹ میں کوئی بحث نہیں کی جائے گی، آرٹیکل 68 کی خلاف ورزی پر معزز ایوان پر توہین عدالت کی تلوار لٹک گئی
قومی اسمبلی پنجاب میں الیکشن کے انعقاد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف قرارداد منظور کرکے آئین شکنی کاارتکاب کرڈالا۔
آئین کا آرٹیکل 68 قومی اسمبلی کو اعلیٰ عدلیہ کے طرز عمل پر بحث نہ کرنے کا پابند بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت نے الیکشن سے فرار کیلیے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے، عمران خان
اسلام آباد ہائیکورٹ کا مقدمات کی تفصیلات آنے تک مراد سعید کو گرفتار نہ کرنے کا حکم
گزشتہ روز حکومت نے قومی اسمبلی سے پنجاب میں الیکشن کے انعقاد سے متعلق سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کا فیصلہ مسترد کرنے کی قرار داد کثرت رائے سے منظور کروائی تھی۔
قرارداد میں تین رکنی بینچ کے بجائے فل کورٹ میں کیس کی سماعت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہےکہ ایوان سیاسی معاملات میں بے جا عدالتی مداخلت پر اظہار تشویش کرتا ہے، حالیہ اقلیتی فیصلہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر رہا ہے، وفاقی اکائیوں میں تقسیم کی راہ ہموار کردی گئی ہے، یہ ایوان تین رکنی اقلیتی فیصلےکو مسترد اور وزیراعظم کو پابند کرتا ہےکہ فیصلے پر عمل نہ کیا جائے۔
قرار داد میں کہا گیا ہےکہ ایوان سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے ایک ہی وقت پر عام انتخابات کو مسائل کا حل سمجھتا ہے، ایوان تین رکنی بینچ کا اقلیتی فیصلہ مسترد کرتا ہے ، ایوان دستور کے آرٹیکل 63 اےکی غلط تشریح اور اسے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ذریعے ازسرنو تحریر کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہےکہ عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ اس پر نظر ثانی کرے۔

تاہم سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کیخلاف مذمتی قرار داد منظور کرکے حکومت آئین شکنی کی مرتکب قرار پائی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 68 قومی اسمبلی کو پابند بناتا ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی جج کے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں پارلیمنٹ میں کوئی بحث نہیں کی جائے گی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ آئین کی صریحاً خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی کرتے ہیں یا عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟









