وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ملک میں خونی انتخابات کا عندیہ دے دیا

رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ایک شخص کی ضد پر انتخابات کرائے گئے تو ملک کو خون میں نہلانے کی بات ہو گی۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ فوج اور پولیس کی سیکورٹی اور دیگر ضروری اقدامات پورے کیے بغیر الیکشن کرانا ایسا ہے جیسے ملک کو خون میں نہلانا ہے۔

اسلام آباد میں لائرز کمپلیکس کی سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فرد واحد کی ضد پر اڑے رہنے کی بات درست نہیں، بڑی عاجزی سے کہہ رہا ہوں کہ آپ کسی کی ضد پر ضد نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیے

کامران خان کے الیکشن کمیشن کا فیصلہ حکومت کیلیے بھیانک قرار دینے پر مریم نواز کا ردعمل

اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض حکومت کے آنکھیں پھیرنے پر پھٹ پڑے

سپریم کورٹ کے الیکشن سے متعلق فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وکلاء نے ہمیشہ آئین اور قانون کی حکمرانی میں قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں متنازع الیکشن کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ عوامی مینڈیٹ سے اقتدار میں آئی ہے، مگر اس مرتبہ فرد واحد کی ضد کے لیے انتخابات کرائے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں ٹوٹی نہیں بلکہ توڑی گئی تھیں ، ملک میں اس وقت متنازعہ انتخابات کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ انتخابات شفاف ہوں گے یا نہیں مجھے اس بات کرنے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن پیسے اور سیکورٹی مانگ رہا ہے، ریٹرننگ آفسر نہیں ہوں گے تو ملک بھر میں غدر مچے گا۔ پولنگ والے روز پولیس کے ساتھ ساتھ فوج کی سیکورٹی بھی بہت ضروری ہے۔ فوج کی سیکورٹی اور دیگر ضروری اقدامات پورے کیے بغیر الیکشن کرانا ایسا ہے جیسے ملک کو خون میں نہلانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کو سب سے زیادہ نقصان دو متنازعہ ترین انتخابات نے پہنچایا ہے۔ 1970-71 کے متنازعہ انتخابات نے ملک کو دولخت کردیا تھا جبکہ 1977 کے انتخابات نے ملک کو آمریت میں دھکیل دیا تھا۔ اُن دونوں انتخابات سے ملک کو جو نقصانات ہوئے تھے ان کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر