دفاع پاکستان کونسل کی پریس کانفرنس یا تحریک انصاف کے خلاف اعلان جنگ؟
تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ تمام مقررین کے خطاب سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ ان ٹارگٹ صرف ایک سیاسی جماعت ہے۔
دفاع پاکستان کونسل کے رکن مولانا احمد لدھیانوی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب 313 کے چاہنے والے میدان میں نکلیں گے تو یہ ممی ڈیڈی برگر کھانے والے ہمارا راستہ نہیں روک پائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر کونسل کی یہ پریس کانفرنس عمران خان اور عدلیہ کے خلاف کے تھی، اور یہ وہ پلیٹ فارم ہے جس میں بعض کالعدم تنظیمیں بھی شامل ہیں۔
’’استحکام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا احمد لدھیانوی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملک دشمن پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھے گا ، پاکستان کی دینی ، مذہبی اور سیاسی قوتیں میدان میں ہوں گی ، اور اس کا راستہ روکنے کے لیے ہم اس کو وہ مزا چکھائیں گے کہ اس کی آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔
یہ بھی پڑھیے
اتوار کے روز وفاقی کابینہ کا اجلاس ، اب ایسا کیا ہوگا جو پہلے نہیں کرسکے
سپریم کورٹ بار نے عدلیہ کے خلاف منظور کی گئی قرارداد کو غیرآئینی قرار دے دیا
مولانا احمد لدھیانوی نے کہا کہ ایک تیسری قوت نکل کر سامنے آرہی ہے ، آج بھی ملک خطرے میں گھرا ہوا ہے ، لوگوں کی نظریں اٹھی ہوئی تھیں اور سوچ رہی تھیں کہ کون ان ملک دشمن قوتوں کا راستہ روکے گا۔
مولوی صاحب 313 پر آپ کا کاپی رائٹ نہیں ہے اور ہاں وہ 313 کا لشکر کفار سے لڑا تھا۔ آپ اسلام آباد نہیں کشمیر یا فلسطین جائیے۔ اسلام آباد والے ممی ڈیڈی ہوں یا برگر وہ مسلمان اور 313 سے عقیدت رکھنے والے ہیں۔ نفرت سے گریز کیجیئے اور استعمال ہونے سے بچائے۔
pic.twitter.com/M2Jux7B0Gs— Imran Khan (@ImranRiazKhan) April 8, 2023
مولانا احمد لدھیانوی کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی معاملات ایوانوں میں طے کیے جائیں ، اگر کوئی سڑکوں پر نکلے گا تو پھر دفاع پاکستان کونسل بھی سڑکوں پر نکلی گی۔
احمد لدھیانوی کا کہنا تھا کہ آج ہم پاکستان کی غم زدہ قوم کو اس پلیٹ فارم سے پیغام دیتے ہیں کہ آج کے بعد کوئی سیاسی جماعت ، کوئی اور قوت ، کوئی اسرائیل کے ایما پر ، کوئی بھارت کے ایما پر اور کسی اور کے ایما پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا ، وہ بظاہر جتنی بڑی قوت کیوں نا ہو ان شاء اللہ 313 کے چاہنے والے جب میدان میں آئیں گے ، تو یہ ممی اور ڈیڈی برگر کھانے والے ہمارا راستہ نہیں روک سکیں گے۔
اس سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام (سمیع گروپ) کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہر ممکن طریقے سے سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر عدم استحکام سے دوچار کرنے کی اندرونی اور بیرونی سازشوں سے بچانے کے لیے ایک جامع پروگرام ترتیب دینا ہوگا۔
’’استحکام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حامد الحق حقانی نے ہم باہمی افہام و تفہیم کی کوششوں سے پاکستان کو موجودہ سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ایک متحدہ پلیٹ فارم کی تجویز پیش کرتے ہیں۔
دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام (سام) کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی نے کہا کہ سیاستدانوں کی غلطیوں کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دشمنوں کے مذموم عزائم سے نمٹنے کے لیے ایک پیج پر ہونا پڑے گا۔ لیکن کچھ غیر ملکی ایجنٹس ہیں جو مسلمانوں کا بھیس بدل کر قومی سلامتی کے اداروں پر حملے کررہے ہیں۔
’’استحکام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں چند ایک قرارداد بھی منظور کی گئیں۔
دفاع پاکستان کونسل کے اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف عوام میں زہر گھولا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے منظم پروپیگنڈا کرکے حقائق کو مسخ کیا جارہا ہے۔
دفاع پاکستان کونسل کے اعلامیے کے مطابق ملکی دفاع صرف عسکری دفاع تک محدود نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں میں بعض تنظیمیں ایسی بھی ہیں جن کو حکومت پاکستان نے باقاعدہ کالعدم قرار دے رکھا ہے کل انہوں نے اَن دیکھی قوتوں کے اشارے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ تمام مقررین کے خطاب سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ ان ٹارگٹ صرف ایک سیاسی جماعت ہے۔









