مرتضیٰ جاوید عباسی کی چیف جسٹس کو گالی بکنے کی ویڈیو وائرل
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر نے تناول میں تقریب کے دوران چیف جسٹس کے متعلق نازیبا الفاظ ادا کیے ، جس پر تحریک انصاف کارکنان کی جانب سے زبردست احتجاج کیا گیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر ترین رہنما اور وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی کی ایک ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ چیف جسٹس آف پاکستان سے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کررہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد کے علاقے تناول میں گیس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی نے نہ صرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے متعلق نازیبا الفاظ ادا کیے بلکہ انہیں پاکستان تحریک انصاف کا ورکر بھی قرار دے دیا۔
مرتضی جاوید عباسی کا خطاب کے دوران کہنا تھا کہ چیف جسٹس پی ٹی آئی کے ورکر کا کردار ادا کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت نے توشہ خانہ ریکارڈ سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کر دیا
توہین عدالت سے بچنے کے لیے حکومت کی نئی حکمت عملی تیار
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے متعلق نازیبا الفاظ پر تناول میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے وفاقی وزیر کے خلاف شدید احتجاج کیا جارہا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر مرتضی جاوید عباسی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا جارہا ہے۔
مجھے یقین نہی کہ سابق ڈپٹی سپیکر یہ کہ سکتا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو عدالتی برداشت کی بھی کوئ حد ہونی چاہئے۔ ورنہ یہ نظام گر جائے گا۔ ججوں کے آپسی مسلے بہت جائز ہیں۔ مگر چیف جسٹس کو گالیاں برداشت کی جائیں تو بچے گا کوئ نہیں۔ pic.twitter.com/xLbaqAeAvO
— Amir Mateen (@AmirMateen2) April 9, 2023
وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی تناول (ایبٹ آباد) میں سوئی گیس منصوبے کا افتتاح کرنے پہنچے، عوام نے بھگا دیا#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور pic.twitter.com/rOsvCoRWbZ
— احمد وڑائچ (@ahmad_sarwar_) April 9, 2023
اور یہ اس کے الفاظ ججز کے لئے جاہل انسان pic.twitter.com/nKXopNVRjq
— Zara.abbasi🇵🇰PTI (@Zaa_gul) April 9, 2023
گذشتہ سے پیوستہ
واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کے 8 مارچ کے فیصلے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر تمام فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ، پنجاب میں 8 اکتوبر کو انتخابات کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے ای سی پی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات 90 روز میں کرانے کے علاوہ کوئی اختیار نہیں۔ اس لیے الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پنجاب میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے کچھ ترامیم کی گئی ہے کہ جو انتخابات 30 اپریل کو ہونا تھے اب 14 مئی کو ہوں گے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے انتخابات میں جو 13 روز کی تاخیر ہوئی ہے اس کو 14 مئی کے شیڈول میں ایڈجسٹ کیا جائے۔ فیصلے میں انتخابی مہم کے شیڈول کو کم کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ آئین اور قانون الیکشن کمیشن کو تاریخ میں توسیع کی اجازت نہیں دیتا۔









