سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 ایک ہی روز میں دو بڑی عدالتوں میں چیلنج
بل کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست ایڈووکیٹ محمد شافع نے دی ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس بل کو ایڈووکیٹ سعد آفتاب نے چیلنج کیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں "سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023” کو چیلنج کردیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پاس کرائے گئے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
الیکشن کمیشن کا نگراں حکومت پنجاب کو تقرریاں و تبادلے کا اختیار دینا غیر آئینی؟
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 90 دن میں الیکشن سے متعلق سوالات گول کرگئے
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست وکیل سعد آفتاب نے دائر کی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کو کالعدم قرار دیا جائے۔
دائر کی گئی درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بنیادی مطالبہ صرف آرٹیکل 184 (3) فیصلوں کے خلاف اپیل کا تھا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ہائی کورٹ طرز پر سپریم کورٹ میں انٹراکورٹ اپیل کا حق دیا جاسکتاہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت یہ درخواست دائر کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ میں درخواست لاہور ہائی کورٹ کے وکیل محمد شافع نے دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 جو پاس کیا ہے وہ خلاف قانون ہے۔ اس کو غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیا جائے۔
درخواست میں سیکریٹری قانون ، سیکریٹری سینیٹ اور سیکریٹری قومی اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹوز کی جانب سے عدلیہ کے اوپر کوئی کنٹرول نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ عدلیہ ایک خودمختار ادارہ ہے۔









