عمران خان اور بشریٰ کے غیرشرعی نکاح کا کیس: مفتی سعید کا بیان قلمبند
مفتی محمد سعید کا کہنا تھا کہ خاتون کی یقین دہانی پر یکم جنوری 2018 کو عمران خان اور بشریٰ بی بی پڑھا دیا۔ عمران خان نکاح کے بعد اسلام آباد منتقل ہو گئے اور بشریٰ بی بی کے ساتھ رہنے لگے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کے غیرشرعی نکاح کا کیس، عمران خان نے کہا پہلے نکاح کے وقت عدت کا دورانیہ پورا نہیں ہوا تھا ، مفتی سعید کا سیشن کورٹ میں بیان قلمبند۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے مفتی سعید کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ان سے فروری 2018 میں دوبارہ رابطہ کیا۔ عمران خان نے درخواست کی بشریٰ بی بی سے دوبارہ نکاح پڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
الیکشن کمیشن نے پنجاب میں عام انتخابات کیلئے پولنگ اسکیم تیار کرلی
زمان پارک میں پولیس آپریشن: آئی جی پنجاب کی چھ صفحات پر مشتمل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع
عدالت میں بیان قلمبند کراتے ہوئے مفتی سعید کا کہنا تھا کہ ایک خاتون نے خود کو بشریٰ بی بی کی بہن ظاہر کیا۔ خاتون نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کے نکاح کی تمام شرعی شرائط مکمل ہیں۔
سینئر سول جج نصرمن اللہ نے عدت سے قبل نکاح کے کیس کی سماعت کی ہے۔ درخواست گزار محمد حنیف کی جانب سے جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔
عدالت نے محمد حنیف کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے مفتی محمد سعید کا بیان قلمبند کرایا گیا ہے۔ مفتی سعید کا کہنا تھا کہ میری عمر 62 سال ہے ایک مدرسے کا پرنسپل بھی ہوں ، عمران خان سے اچھے تعلقات تھےجبکہ عمران خان کی کور کمیٹی کا ممبر تھا۔
مفتی محمد سعید کا کہنا تھا کہ خاتون کی یقین دہانی پر یکم جنوری 2018 کو عمران خان اور بشریٰ بی بی پڑھا دیا۔ عمران خان نکاح کے بعد اسلام آباد منتقل ہو گئے اور بشریٰ بی بی کے ساتھ رہنے لگے۔ عمران خان نے پیشگوئی کرتے ہوئے مجھےبتایا تھا کہ بشریٰ بی بی سے نکاح کی صورت میں وہ وزیراعظم بن جائیں گے۔
مفتی محمد سعید خان کا کہنا تھا کہ میں نکاح پڑھانے کے بعد اپنےگھر واپس آگیا۔ بعدازاں میڈیا رپورٹس سے پتا چلا کہ جو مجھ سے کہا گیا تھا وہ درست نہیں تھا۔ تو شرعی اعتباد سے یہ نکاح فاسد ہوا۔ اس کے بعد میں نے دونوں شخصیات کو بلایا اور انہیں خوف خدا کا احساس دلایا۔
مفتی محمد سعید خان کا کہنا تھا کہ پھر دوسری مرتبہ نکاح ہوا تو اس نکاح میں ذلفی بخاری صاحب اور عون چوہدری صاحب بھی گواہ تھے۔
مفتی سعید کے مطابق عمران خان نے فروری 2018 میں دوبارہ کیا اور بتایا کہ پہلا نکاح غیرشرعی تھا کیونکہ اس وقت شرعی عدت پوری نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کو نومبر 2017 میں طلاق ہوئی تھی۔
سینئر سول جج نصرمن اللہ نے مفتی محمد سعید خان کا بیان قلمبند کرنے کے بعد سماعت 19 اپریل تک ملتوی کردی ہے۔









