ISI اور MI کے سربراہان کی سپریم کورٹ کے ججز کو سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ
چیف جسٹس کے چیمبر میں ججز اور آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہان کے درمیان ملاقات تین گھنٹے سے زائد جاری رہی، ججز قائل ہوگئے تو ملاقات کے دور رس نتائج ہوں گے، حسنات ملک

ملک کی دو اہم خفیہ ایجنسیوں انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی ) اور ملٹری انٹیلی جنس ( ایم آئی ) کے اعلی حکام نے پیر کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم پنجاب میں 14 مئی کو ہونے والے الیکشن سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والے 3 رکنی بینچ سے ملاقات کی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے سینئر رپورٹر حسنات ملک نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ چیف جسٹس کے چیمبر میں ججز اور آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہان کے درمیان ملاقات تین گھنٹے سے زائد جاری رہی۔
یہ بھی پڑھیے
سعودی شاہی خاندان کے مہمان نواز شریف اب تک میزبانوں سے ملاقات کے متمنی
اللہ تعالیٰ جس انسان کو نعمتیں بخشتا ہےاس کی پرواز اونچی ہو جاتی ہے، عمران خان
ذرائع کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس افسران نے ججوں کو ملک کو درپیش سیکیورٹی مسائل پر بریفنگ دی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3رکنی بینچ نے 4 اپریل کو الیکشن کمیشن کے پنجاب اسمبلی کے انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے صوبے میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا ۔
22 مارچ کوالیکشن کمیشن نےفنڈزکی عدم دستیابی اور سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو جواز بناتے ہوئے صوبہ پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات 5ماہ سے زائد عرصے کیلیے ملتوی کردیے تھے ۔
اسی بینچ نے 14 اپریل کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے جاری کرے اور اس سلسلے میں وزارت خزانہ پیر 17 اپریل تک مناسب کمیونی کیشن ارسال کرے۔
اس سے قبل کی سماعت میں سکریٹری دفاع نے بینچ سے درخواست کی تھی کہ سیکیورٹی کے معاملات پر ان کیمرہ بریفنگ حاصل کی جائے۔ لیکن بینچ نے انہیں پہلے خفیہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ایک وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق 17 اپریل الیکشن کمیشن کو سیکیورٹی پلان سے آگاہ کرنے کی آخری تاریخ تھی۔”ایسا لگتا ہے کہ ان افسران نے ججوں کو براہ راست ان وجوہات سے آگاہ کیا ہے کہ 14 مئی کو سیکیورٹی ڈیوٹی کے لیے فوج کیوں فراہم نہیں کی جاسکتی “۔
یہ واضح نہیں کہ سپریم کورٹ نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا یا نہیں۔ تاہم اگر ججز کو یقین ہو جائے کہ ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال، پنجاب میں پولنگ کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے فوج کی تعیناتی کی اجازت نہیں دیتی تو اس بریفنگ کے دور رس اثرات ہوں گے۔
دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے اپنے اتحادی جماعتوں کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔ وزیر اعظم اپنے اتحادیوں کو انتخابات اور چیف جسٹس کے اختیارات کے حوالے سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کے بارے میں اعتماد میں لیں گے۔









