مولانا فضل الرحمان نے چیف جسٹس کو پی ٹی آئی کا کارکن قرار دے دیا

حکومتی اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سپریم کورٹ پر لفظی گولہ باری کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہتھوڑے کے زور پر عمران خآن سے مذاکرات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اگر سیاست کا شوق ہے تو پھر میدان میں آجائیں

حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہتھوڑے کے زور پر مذاکرات کے لیے کہا جا رہا ہے مگر وہ یاد رکھیں عمران خان سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عدالت جس اختیار کے تحت دھونس دکھا رہی ہے وہ اس کا اختیار نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھیے

رابرٹ ایف کینیڈی ہیومن رائٹس کا پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر اظہار تشویش

حکومتی اتحاد کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اپنے رویے میں لچک پیدا کرے۔ ہم جبر تسلیم نہیں کریں گے، ہتھوڑا نہیں چلے گا۔ کب تک اس طرح گمراہ کیا جاتا رہے گا۔

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ نے کہا کہ عمران خان کو چار پانچ مقدمات کا سامنا ہے، وہ نااہل ہوسکتے ہیں، عدالت عمران خان کے لیے لچک پیدا کرسکتی ہے تو ہمارے لیے کیوں نہیں؟۔

پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جس عدالت پر پارلیمنٹ نے عدم اعتماد کیا ہے اس کے سامنے کیوں پیش ہوں؟۔ سپریم کورٹ عمران خان کو سیاست کے لیے اہل بنانے کی کوشش کررہی ہے مگر وہ اس کا اہل ہے ہی نہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اپنے ہی فیصلے میں پھنس چکی ہے، عدالت اب اپنے لیے راستہ مانگ رہی ہے، یہ عدالت کیس میں فریق کا روپ دھار چکی ہے ۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے پارلیمنٹ ہمیں بُلاسکتی ہے تو کسی کو بھی بُلا سکتی ہے۔ پہلے ہمیں بندوق کے اور آج ہتھوڑے کے سامنے مذاکرات کا کہا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکام کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنے کا حکم

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ بلاول مفتی عبدالشکور کی وفات پر تعزیت کیلئے آئے تھے جبکہ میری ٹیلی فون پر آصف زرداری اور مسلم لیگ نون کی قیادت بات چیت بھی ہوئی ہے۔

ہم انصاف کو تسلیم کرتے ہیں آپ کے ہتھوڑے کو تسلیم نہیں کریں گے، سپریم کورٹ واضح فریق کا کردار ادا کررہی ہے، واضح فریق بن رہے ہیں تو پھر سیاست میں آجائیں۔

متعلقہ تحاریر