سپریم کورٹ کا پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم برقرار
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل اور فاروق ایچ نائیک کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے ملک بھر میں ایک ہی وقت میں انتخابات نہ کرانے حکم دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اپنے 4 اپریل کے حکم پیچھے نہیں ہٹے گی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزارت دفاع اور اسلام آباد کے شہری فدا محمد خان کی ملک بھر میں ایک ہی وقت میں انتخابات کرانے کی درخواستوں پر جمعرات کے روز سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چار بجے تک وقفہ کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو آپس میں مذاکرات کا مشورہ دیا۔ تاہم چیمبر میں مشاورت کے بعد چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور پی پی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کی درخواستوں پر کیس کی سماعت 27 اپریل تک ملتوی کر دی۔
سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ایک ساتھ عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے وزارت دفاع اور اسلام آباد کے شہری فدا محمد خان کی جانب سے دائر درخواستوں پر دوبارہ سماعت شروع کی۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جولائی میں عیدالاضحیٰ کے بعد الیکشن ہوسکتے ہیں۔ توقع ہے کہ مولانا فضل الرحمان کچھ لچک دکھائیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لے گی۔
یہ بھی پڑھیے
پنجاب انتخابات: پی ٹی آئی نے 297 امیدواروں میں ٹکٹس کی تقسیم کردی
مذاکرات کے دروازے کبھی کسی پر بند نہیں کیے، وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کا اعلامیہ
جمعرات کی سماعت کا حکمنامہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے سے متعلق کیس کا پانچ صفحات پر مشتمل آج کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔
سپریم کورٹ کے حکمنامہ کے مطابق سیاستدانوں کے آپس کے تمام اختلافات پر مذاکرات کا اصل فورم سیاسی ادارے ہیں، عدالت کو ایک ہی دن پورے ملک میں انتخابات کے لیے مذاکراتی عمل پر کوئی اعتراض نہیں۔
سپریم کورٹ کے حکمنامہ کے مطابق ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کا انعقاد قانونی اور آئینی سوال ہے، 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات سے متعلق فیصلہ برقرار ہے۔
سپریم کورٹ کے حکمنامہ کے مطابق تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کی پابند ہیں۔
حکم نامے لکھا گیا ہے کہ فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل نے ان چیمبر ملاقات کی۔ ملاقات میں حکومت اور تحریک انصاف کے رہنما کے درمیان رابطہ کا بتایا گیا۔
سپریم کورٹ کے حکمنامہ کے مطابق تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے عدالت کے سامنے ملک میں ایک ہی دن الیکشن کی رائے سے نہ صرف مثبت ردعمل بلکہ اتفاق بھی کیا، سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر اس عزم کو دہرایا کہ آئین سپریم ہے۔
سپریم کورٹ کے حکمنامہ کے مطابق اگر سیاستدانوں کے مابین تمام اختلافات پر مذاکراتی عمل شروع ہوا تو اس پر کافی وقت خرچ ہونے کا امکان ہے، عدالت کو بتایا گیا کہ 26اپریل کو سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک اجلاس ہوگا۔
تحریری حکمنامہ کے 27 اپریل تک سیاسی رابطوں اور ڈائیلاگ کی پیش رفت رپورٹ جمع کروائی جائیگی۔
جمعرات کی سماعت کا احوال
اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی اور بابر اعوان، پیپلز پارٹی کے لطیف کھوسہ، فاروق ایچ نائیک اور قمر زمان کائرہ، مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء تارڑ، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ایاز صادق، طارق بشیر چیمہ، سعد رفیق، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور دیگر رہنما بھی عدالت میں موجود تھے۔
بدھ کے روز سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ایک ساتھ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے وزارت دفاع اور ایک شہری کی جانب سے دائر درخواستوں پر بڑی سیاسی جماعتوں کو آج کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی سیاسی جماعت نے عدالتی فیصلے کی مخالفت نہیں کی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کو تبدیل کرنا کوئی مذاق نہیں ہے۔
جمعرات کے روز جیسے ہی کارروائی شروع ہوئی، عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان کی درخواست پر سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ لیا۔
سماعت دوبارہ شروع کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو عظیم کام کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت حکم دے تو پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، سیاسی رہنما مسئلہ حل کریں تو بہت اچھا ہوگا۔ قوم میں بے چینی ہے۔ اگر قیادت مسئلہ حل کرے گی تو امن ہوگا۔
چیف جسٹس کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تمام سیاسی جماعتیں انتخابات پر مشترکہ موقف اپنانے کی عدالت کی تجویز سے اتفاق کرتے ہیں، پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ عدالت کے ہر لفظ کا احترام کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو آئین کے مطابق آگے بڑھنا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ دیکھنا باقی یہ ہے کہ حکومت کیا موقف اختیار کرتی ہے، پی ٹی آئی آئین کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہے۔
حکومتی وکیل شاہ خاور نے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کرائے جائیں۔
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ مخلوط حکومت کی اجتماعی رائے ہے کہ انتخابات کے لیے 90 دن کی ڈیڈ لائن گزر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعتیں کشیدگی کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی سے دوبارہ مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
سینئر ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں نگراں حکومتوں کے تحت انتخابات ہونے چاہئیں۔ سیاسی معاملات سیاسی جماعتوں کے درمیان طے ہونے چاہئیں، ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی ادارے کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات ہونے چاہئیں، انہوں نے مزید کہا کہ وہ انتخابات پر مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عید کے بعد پارٹی رہنماؤں کا اجلاس بلایا گیا ہے، سیاستدان اداروں کا وقت ضائع کرنے کے بجائے آپس میں بات کریں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ان کی پارٹی کو امید ہے کہ انتخابات پر جلد اتفاق رائے ہو جائے گا۔
مسلم لیگ (ق) کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اگر عدالت انتخابات پر فیصلہ دیتی ہے تو اس پر تنقید ہوگی، جب کہ تمام سیاسی رہنماؤں کا فیصلہ عوام کے لیے قابل قبول ہوگا۔
عمران خان کی جانب سے شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پوری قوم کا اجتماعی فیصلہ ہوگا۔
سراج الحق نے عدلیہ، فوج اور الیکشن کمیشن کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتوں کو اپنے موقف سے تھوڑا ہٹنا ہوگا۔
انہوں نے انتخابات کے لیے عیدالاضحیٰ کے بعد کی تاریخ بھی تجویز کی۔
فاروق نائیک نے عدالت کو بتایا کہ پارٹی ٹکٹ دینے کا آج آخری دن ہے، اور عدالت سے ڈیڈ لائن میں توسیع کرنے کو کہا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن پولنگ شیڈول میں ردوبدل کا اختیار رکھتا ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو بتایا گیا کہ سپلیمنٹری گرانٹ جاری کرنے کے بعد منظوری لی جائے گی۔ اس کے بجائے معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج دیا گیا۔
’’کیا یہ صرف انتخابات کے لیے ہوتا ہے یا عام حالات میں بھی؟‘‘ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا۔









