گلوبل وارمنگ چلغوزے کے ایک لاکھ درخت کھاگئی، سالانہ 3 ارب کا نقصان ہونے لگا

نیوز 360 کو حاصل دستاویزات کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ 32 ہزار ہیکٹرز پر چلغوزے کے جنگلات کو شدید خطرات لاحق ہوگئے۔

ماحولیاتی آلودگی چلغوزے کے ایک لاکھ قیمتی درخت نگل گئی۔ متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی سرد مہری سے ملک کو سالانہ تین ارب روپے کا نقصان ہونے لگا۔

بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) نے پاکستانی جنگلات کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ ماحولیاتی آلودگی چلغوزے کے ایک لاکھ قیمتی درخت نگل گئی۔ تین ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مفتاح اسماعیل کو ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی تجویز پر تنقید کا سامنا

پنجاب اور کےپی میں انتخابات وقت پر نہ ہوئے تو عوامی انقلاب آئے گا، فواد چوہدری

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مختلف جنگلات میں گزشتہ برس صرف ماہ مئی میں آگ لگنے کے 300 سے زیادہ واقعات پیش آئے۔

 

ان درختوں سے ہر برس تین ارب روپے کے لذیذ چلغوزے حاصل ہوتے تھے۔ چلغوزے کے جنگلات کو سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے کوہ سلیمان میں پہنچا۔

نیوز 360 کو حاصل دستاویزات کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ 32 ہزار ہیکٹرز پر چلغوزے کے جنگلات کو شدید خطرات لاحق ہوگئے۔ پاکستان کے مختلف جنگلات میں گزشتہ برس صرف ماہ مئی میں آگ لگنے کے 300 سے زیادہ واقعات پیش آئے۔

دستاویزات کے مطابق چلغوزے کے جنگلات میں آگ بجھانے کے لئے ایرانی طیارے کی مدد لینا پڑی۔ ماہرین نے بھی خطرے کی مزید گھنٹیاں بجا دیں ہیں اور بتایا کہ چلغوزے کا جنگل دوبارہ اگنے میں 100 سال لگتے ہیں۔

ماہرین کی تحقیق کے مطاب چلغوزے کا درخت ایک سال میں صرف ایک سینٹی میٹر بڑھتا ہے۔ پاکستان کا سالانہ جی ڈی پی آئندہ برسوں میں 18 سے 20 فیصد تک کم ہونے کا خطرہ ہے۔

دستاویزات کے مطابق ملک میں اوسط بڑھتی حدت اور موسمیاتی تناؤ  نے انسانی زندگیوں اور جنگلات کو خطرات سے دوچار کردیا۔

ملک میں پانی کی کمی ، زرعی زمین  صحرا میں تبدیل ہونے اور گلیشئیرز پگھلنے کے خطرات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ ملک میں جنگلات کو لگنے والی آگ کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ سکتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر