سعودیہ نے نواز شریف کو ہری جھنڈی دکھلادی، عمرہ ادائیگی کے بعد لندن پہنچ گئے
سیاسی تجزیہ نواز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عریبیہ کو ناکام قرار دے رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ بڑے میاں صاحب اس مرتبہ سعودی شہزادے سے 2007-08 والی وارنٹی لینے میں ناکام رہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف عمرہ ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے لندن پہنچ گئے جبکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور پارٹی کی سینئر نائب صدر پاکستان پہنچ گئیں۔ نواز شریف کی لندن روانگی پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس مرتبہ سعودی عرب سے میاں صاحب کو وہ وارنٹی نہیں ملی جو انہیں 2007-8 میں ملی تھی اور وہ پاکستان پہنچ گئے تھے۔
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف سعودی شہزادے محمد بن سلمان کی دعوت پر رمضان کے آخری عشرے میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے 5 سال بعد سعودی عرب پہنچے تھے، جبکہ میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز پاکستان سے سعودی عرب پہنچیں تھیں۔
میاں محمد نواز شریف ، مریم نواز شریف ، کیپٹن (ر) محمد صفدر سمیت خاندان کے دیگر افراد نے شاہی پروٹوکول میں عمرے کی سعادت ادا کی تھی اور روضہ رسولﷺ پر حاضری دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
عدالت عظمیٰ پارلیمان کی عزت و توقیر کا خیال رکھے، اسپیکر قومی اسمبلی کا چیف جسٹس کے نام خط
ضامن بننا یا پنچایت لگانا سپریم کورٹ کا کام نہیں، وزیراعظم شہباز شریف
وفاقی وزیر اطلاعات اور ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ملاقات پر جاری بیان میں کہا کہ اس ملاقات میں مریم نواز بھی موجود تھیں، اس دوران پاک سعودی برادرانہ تعلقات کے مزید فروغ پربات چیت ہوئی۔
دوسری جانب اس ملاقات کے حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ محمد بن سلمان اور نواز شریف کی ملاقات مثبت رہی۔ شاہی محل میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کے مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
مریم اورنگزیب کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان اور نواز شریف کی ملاقات کے حوالے سے ترجمان مسلم لیگ ن کا بیان تو آن ریکارڈ ہے مگر سعودی ذرائع ابلاغ اس حوالے سے بالکل خاموش ہیں کہ یہ ملاقات ہوئی بھی ہے یا نہیں۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں نے نواز شریف کے دورہ سعودی عرب کو ناکام دورہ قرار دے رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ اس دورے کا صرف ایک ایجنڈا تھا ، اور وہ تھا کہ نواز شریف کو پاکستان میں انٹری کے لیے محفوظ راستہ دینا تھا مگر ایسا لگتا ہے کہ سعودی حکمرانوں نے بھی شریف خاندان کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا ہے، اور میاں صاحب کو ہری جھنڈی دکھلا دی ہے۔









